فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 258
مجموعہ اشتہارات 258 (ضمیمہ اشتہار الانصار 4 اکتوبر 1899ء) فلسطین سے کشمیر تک ہم اس اشتہار میں لکھ چکے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے تین آدمی اس کام کے لئے منتخب کئے جائیں گے کہ وہ نصیبین اور اس کی نواح میں جاویں اور حضرت عیسی کے آثار اس ملک میں تلاش کریں۔اب حال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سفر کے خرچ کا عمل قریباً انتظام پذیر ہو چکا ہے صرف ایک شخص کی زاد راہ کا انتظام باقی ہے یعنی اخویم مگر می مولوی حکیم نورالدین صاحب نے ایک آدمی کے لئے ایک طرف کا خرچ دے دیا ہے اور اخویم منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری ساکن او جله ضلع گورداسپور نے باوجود قلت سرمایہ کے ایک سو پچیس روپیہ دیئے ہیں۔اور میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپورا اور اُن کے دو برادر حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر الدین نے پچاس روپیہ دیئے ہیں۔ان چاروں صاحبوں کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابلِ رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں۔گویا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی۔ایسا ہی مرزا خدا بخش صاحب نے بھی اس سفر خرچ کے لیے پچاس روپے چندہ دیا ہے۔خدا تعالیٰ سب کوا جر بخشے آج ۱۰ اکتوبر ۱۸۹۹ء کو قرعہ اندازی کے ذریعہ سے وہ دو شخص تجویز کئے گئے ہیں جو مرزا خدا بخش صاحب کے ساتھ نصیبین کی طرف جائیں گے۔اب یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان عزیزوں کی روانگی کے لیے ایک مختصر سا جلسہ کیا جائے کیونکہ یہ عزیز دوست ایمانی صدق سے تمام اہل و عیال کو خدا تعالیٰ کے حوالے کر کے اور وطن کی محبت کو خیر باد کہہ کر دور دراز ملکوں میں جائیں گے اور سمندر کو چیرتے ہوئے اور جنگلوں پہاڑوں کو طے کرتے ہوئے نصیبین یا اس سے آگے بھی سیر کریں گے اور کر بلا معلی کی زیارت بھی کریں گے۔اس لیے یہ تینوں عزیز قابل قدر اور تعظیم ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے لیے ایک بڑا تحفہ لائیں گے۔آسمان اُن کے اس سفر سے خوشی کرتا ہے کہ محض خدا کیلئے قوموں کو شرک سے چھوڑانے کے لئے یہ تین عزیز ایک نجی کی صورت پر اُٹھے ہیں۔اس