فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 257

مجموعہ اشتہارات 257 فلسطین سے کشمیر تک سفر خرچ کا بندوبست قابل انتظام ہے۔سوامور متذکرہ بالا میں سے ایک یہ تیسرا امر ہے کہ ایسے نازک وقت میں جو پہلی دو شاخیں بھی امداد مالی کی سخت محتاج ہیں پیش آ گیا ہے۔اور یہ سفر میرے نزدیک ایسا ضروری ہے کہ گویا کسی شاعر کا یہ شعر اسی موقع کے حق میں ہے گر جاں طلبہ مضائقہ نیست - زرمی طلبد سخن در میں ست۔خدا تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ممکن ہے کہ چند آدمی ہی ان تینوں شاخوں کا بندو بست کر سکیں۔( میں لکھ چکا ہوں کہ ایک آدمی کے جانے کا خرچ مگر می مولوی حکیم نورالدین صاحب نے اپنے ذمہ لے لیا۔منہ ) غرض انہی تینوں شاخوں کے لئے نہایت ضروری سمجھ کر یہ اشتہار لکھا گیا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 311 تا 314) حضرت مفتی محمد صادق صاحب افغانستان (صوبہ لغمان ) میں لا مک نبی کی قبر کے بارے میں لکھتے ہیں: جن دنوں حضرت صاحب کتاب مسیح ہندوستان میں غالبا 1899ء) لکھ رہے تھے۔ان ایام میں ایک دوست نے جن کا نام میاں محمد سلطان تھا اور لاہور میں درزی کا کام کرتے تھے۔یہ ذکر کیا کہ ایک دفعہ میں افغانستان گیا تھا۔اور وہاں مجھے قبر دکھائی گئی تھی۔جو لا مک نبی کی قبر کہلاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بعض دفعہ کسی بزرگ یا نبی کے بیٹھنے کی جگہ کو بھی قبر کے طور پر لوگ بنا کر اوس سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصری فلسطین سے کشمیر آتے ہوئے افغانستان میں سے گزرے ہوں۔اور وہاں کسی جگہ چندروز قیام کیا ہواور کسی تغیر کے ساتھ اس جگہ ان کا نام لامک مشہور ہو گیا ہو۔تب حضور نے مجھے فرمایا کہ لغت عبرانی سے دیکھنا چاہیے کہ لفظ لا ملک کے کیا معنے ہیں۔تب میں اپنی لغت کی کتاب لیکر حضرت صاحب کی خدمت میں اندرونِ خانہ حاضر ہوا اور لفظ لامک کے معنے اوس میں سے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیے کہ لا مک کے معنے ہیں جمع کرنے والا۔چونکہ جمع کرنے والا مسیح ناصری کا نام ہے۔اور اوس کا یہ نام موجودہ انا جیل میں درج ہے جہاں اوس نے کہا ہے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو جمع کرنے کے واسطے آیا ہوں۔اس بات کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت خوشی ہوئی۔آپ نے سجدہ کیا اور میں نے بھی حضرت صاحب کو دیکھ کر سجدہ کیا۔حضور ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور تخت پر ہی حضور نے سجدہ کیا۔میں نے فرش پر سجدہ کیا۔“ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔صفحہ 83 تا 84)