فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 256

256 فلسطین سے کشمیر تک مجموعہ اشتہارات کی قبر ہے جس کو عام لوگ شہزادہ نبی کی قبر اور بعض یوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب کی قبر کہتے ہیں، ۲۷ ستمبر ۱۸۹۹ء کو واپس میرے پاس پہنچ گئے۔سوکشمیر کا مسئلہ تو خاطر خواہ انفصال پا گیا اور پانسو چھپن شہادت سے ثابت ہو گیا کہ در حقیقت یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے کہ جو سری نگر محلہ خانیار کے قریب موجود ہے۔لیکن اب ایک اور خیال باقی رہا ہے کہ اگر پورا ہو جائے تو نور علی نور ہوگا اور وہ دو باتیں ہیں۔اول یہ کہ میں نے سُنا ہے کہ کوہ لغمان میں جو شہزادہ نبی کا چپوترہ ہے اس کے نام ریاست کا بل میں کچھ جاگیر مقرر ہے۔لہذا اس غرض کے لیے بعض احباب کا کوہ لغمان میں جانا اور بعض احباب کا کابل میں جانا اور جاگیر کے کاغذات کی ریاست کے دفتر سے نقل لینا فائدہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا۔دوسرے یہ کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام افغانستان کی طرف نصیبین کی راہ سے آئے تھے اور کتاب روضتہ الصفا سے پایا جاتا ہے کہ اس فتنہ صلیب کے وقت نصیبین کے بادشاہ نے حضرت مسیح کو بلایا تھا اور ایک انگریز اس پر گواہی دیتا ہے کہ ضرور حضرت مسیح کو اس کا خط آیا تھا بلکہ وہ خط بھی اس انگریز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔اس صورت میں یہ یقینی امر ہے کہ نصیبین میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر کی اب تک کچھ یاد گار قائم ہوگی۔اور کچھ تعجب نہیں کہ وہاں بعض کتبے بھی پائے جائیں یا آپ کے بعض حواریوں کی وہاں قبریں ہوں جو شہرت پا چکی ہوں لہذا میرے نزدیک یہ قرین مصلحت قرار پایا ہے کہ تین دانشمند اور الوالعزم آدمی اپنی جماعت میں سے نصیبین میں بھیجے جائیں۔سو اُن کی آمدروفت کے اخراجات کا انتظام ضروری ہے۔ایک اُن میں سے مرزا خدا بخش صاحب ہیں اور یہ ہمارے ایک نہایت مخلص اور جان نثار مرید ہیں جو اپنے شہر جھنگ سے ہجرت کر کے قادیان میں آ رہے ہیں اور دن رات خدمت دین میں سرگرم ہیں۔اور ایسا اتفاق ہوا ہے کہ مرزا صاحب موصوف کا تمام سفر خرچ ایک مخلص با ہمت نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کا نام ظاہر کیا جائے۔مگر دو اور آدمی ہیں جو مرزا خدا بخش صاحب کے ہم سفر ہوں گے۔اُن کے کابل اور کوہ پغمان میں بھیجنے کے لیے اسی نواح کے بعض آدمی تجویز کئے گئے ہیں کیونکہ وہ اس ملک اور ان پہاڑوں کے خوب واقف ہیں