فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 243

ریویو آف ریلیجنز 243 فلسطین سے کشمیر تک کہ اس سے پہلے بھی وہ یہودیوں کے حملوں سے بچتا رہا۔پھر چھٹی دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا یہ ہے کہ عیسائی فرقوں میں سے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی رنگ میں ہوگی نہ کہ حقیقی یعنی اس کی خوا اور صفت پر کوئی اور آ جائے گا کیونکہ وہ مر چکا ہے۔چنانچہ نیولائف آف جیزس جلد اول صفحہ ۴۱۰ مصنفہ ڈی ایف سٹراس میں یہ عبارت ہے جس کا ترجمہ ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔(جرمن کے بعض عیسائی محققوں کی رائے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا) جرمن کے محقق عیسائی یہ دلائل دیتے ہیں کہ اگر چہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے اس ملیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب چھ گھنٹے صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبو دار دوائیاں مل کر اسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اس کی بیہوشی دور ہوئی۔اس دعوی کی دلیل میں عموماً یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آ رہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔پس میں نے ٹیٹس (حاکم وقت) سے ان کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً اتار کر ان کی خبر گیری کی تو ایک بالآ خر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے۔اور کتاب ماڈرن ڈوٹ اینڈ کرسچن بیلیف کے صفحہ ۴۵۵۔۴۵۷ میں یہ عبارت ہے جس کا ذیل میں ترجمہ لکھا جاتا ہے:۔شمیر میجر اور نیز قدیم متقین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہراً