فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 242

ریویو آف ریلیجنز 242 فلسطین سے کشمیر تک بعید از قیاس بنانا اور مسیح کو مار کر پھر اس کو زندہ کرنا ایک ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی عقلمند اس کو قبول نہیں کرے گا۔کیوں یہ بات نہ مان لی جائے کہ یسوع مسیح صلیب پر نہیں مرا۔اور مرنے کے اسباب بھی پیدا نہیں ہوئے تھے نہ اس کی ٹانگیں توڑی گئیں اور نہ وہ بہت دیر تک صلیب پر رکھا گیا پھر کچھ تعجب کی بات نہیں تھی کہ وہ صلیب پر نہ مرتا بلکہ تب کی بات ی تھی کہ باوجود ٹانگیں نہ توڑنے کے وہ صرف تین چار گھنٹہ کی مدت میں صلیب پر مر جا تا۔اس واقعہ کی نظیر کسی مصلوب میں نہ پاؤ گے کہ وہ باوجود ٹانگوں کے نہ توڑنے کے اس قدر جلد مر گیا۔قیاس تو یہ چاہتا تھا کہ خدا کی جان بہ نسبت انسان کی جان کے بہت دیر کے بعد نکلتی۔کیونکہ جس قد رخدا اور انسان میں فرق ہے اسی قدر ان کے مرنے میں بھی فرق ہونا چاہیے۔پس یہ کیا بات ہے کہ انسانوں کی تو صلیب پر چھ چھ سات سات دن کے بعد جان نکلے اور وہ جو خدا کہلاتا تھا جس نے اپنی قوی طاقتوں سے دنیا کو نجات دینا تھا وہ تین چار گھنٹہ میں مر جائے۔اور یہ جواب صحیح نہیں ہے کہ اگر چہ وہ خدا تھا لیکن تمام دنیا کے گناہ جو یک دفعہ اکٹھے ہو کر اس کی گردن پر پڑے اس لئے وہ کمزور ہو گیا اور ان گناہوں کے بوجھ کی برداشت نہ کر سکا۔اس لئے وہ جلد تر مر گیا۔کیونکہ اگر وہ گناہوں کے بوجھ کی برداشت نہیں کر سکتا تھا تو کیوں اس نے ایسی فضولی کی کہ میں برداشت کرلوں گا۔اور کیوں اس نے کہا کہ میں تمام دنیا کے گناہ اپنے سر پر لے سکتا ہوں۔جس حالت میں گناہ غالب رہے جنہوں نے بہت جلد اس کو ہلاک کر دیا اس لئے قومی طاقت کے لحاظ سے گناہ قابل تعریف ہیں نہ کہ یسوع مسیح کہ جو ایسا جلد ان کے نیچے دب کر مر گیا جیسا کہ ایک کمزور بچہ تھوڑے سے صدمہ سے مرجاتا ہے۔بہر حال یہ عجیب بات ہے کہ خدا پر گناہ غالب آگئے یہانتک کہ ان گناہوں نے صرف تین گھنٹوں تک اس کا کام تمام کر دیا۔ایسے کمزور خدا پر ایمان لانا جس کی موت کا باعث اس کی کمزوری ہے۔اگر بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔یہ تو پادری صاحبوں کا عجیب عقیدہ ہے مگر ان کی ان سکلو پیڈیا جلد ۳ صفحہ ۶۶۹ میں لکھا ہے کہ مسیح نے واقعہ صلیب کے بعد دس دفعہ لوگوں سے ملاقات کی اور وہ صرف تین گھنٹہ تک صلیب پر رہا تھا اب اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ضرور صلیب سے زندہ بچ گیا جیسا