فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 244

ریویو آف ریلیجنز 244 فلسطین سے کشمیر تک موت کی سی حالت ہو گئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتا رہا اور پھر دوسری یعنی اصل موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔ایسا ہی کتاب سو پر نیچرل ریچن کے صفحہ ۸۷۵ پر لکھا ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ پہلی تفسیر جو بعض لائق محققین نے کی ہے وہ یہ ہے کہ یسوع دراصل صلیب پر نہیں مرا بلکہ صلیب سے زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے دوستوں کے حوالہ کیا گیا اور وہ آخریچ نکلا۔اس عقیدہ کی تائید میں یہ دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ اناجیل کے بیان کے مطابق یسوع صلیب پر تین گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے رہ کر فوت ہوا۔لیکن صلیب پر ایسی جلدی کی موت کبھی پہلے واقعہ نہیں ہوئی تھی۔یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ صرف اس کے ہاتھوں پر میخیں لگائی گئی تھیں اور پاؤں پر نہیں تھیں چونکہ یہ عام قاعدہ نہ تھا کہ ہر ایک مصلوب کی ٹانگ توڑی جاوے اس واسطے تین انجیل نویسوں نے تو اس کا کچھ ذکر بھی نہیں کیا اور چوتھے نے صرف اپنی کسی خاص غرض کی تکمیل کے لئے اس کا ذکر کیا ہے اور جہاں ٹانگ توڑنے کا ذکر نہیں ہے تو ساتھ ہی برچھی کا واقعہ بھی کالعدم ہو جاتا ہے۔پس ظاہراً موت جو واقع ہوئی وہ ایک سخت بیہوشی تھی جو کہ چھ گھنٹے کے جسمانی اور دماغی صدموں کے بعد واقع ہوئی اور اس کے علاوہ گذشتہ شب بھی بیداری اور تکلیف میں گزری تھی۔جب اسے کافی صحت پھر حاصل ہو گئی تو اپنے حواریوں کو پھر یقین دلانے کے واسطے کئی دفعہ ملا لیکن یہودیوں کے ڈر سے وہ بڑی احتیاط سے نکلتا تھا۔حواریوں نے یہی سمجھا کہ وہ مر کر زندہ ہوا ہے اور چونکہ موت کی سی بیہوشی تک پہنچ کر وہ پھر بحال ہوا۔یہ اس لئے ممکن ہے کہ اس نے خود بھی یہی خیال کیا ہو کہ میں مرکز پھر زندہ ہوا ہوں۔اب جب استاد نے دیکھا کہ اس ظاہری موت نے میرے کام کی تکمیل کر دی ہے تو پھر وہ کسی نا معلوم تنہائی کی جگہ میں چلا گیا اور مفقودالخبر ہو گیا۔کفر ور رجس نے شنٹوڈ کے اس مسئلہ کی نہایت قابلیت کے ساتھ تائید کی ہے لکھتا