فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 235

حقیقة الوحی 235 فلسطین سے کشمیر تک زمانہ حضرت عیسی کے زمانہ سے بالکل مطابق ہے اور یہ پتہ بھی ملا ہے کہ جب حضرت عیسی کشمیر میں آئے تو اس زمانہ کے بدھ مذہب والوں نے اپنی پستکوں میں ان کا کچھ ذکر کیا ہے۔ایک اور قوی دلیل اس بات پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِین با یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو ایک ایسے ٹیلے پر پناہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور ہر ایک دشمن کی دست درازی سے دور تھی اور پانی اُس کا بہت خوشگوار تھا۔یادر ہے کہ اوای کا لفظ عربی زبان میں اس جگہ بولا جاتا ہے جب ایک مصیبت کے بعد کسی شخص کو پناہ دیتے ہیں ایسی جگہ میں جو دارالامان ہوتا ہے پس وہ دارالامان ملک شام نہیں ہوسکتا کیونکہ ملک شام قیصر روم کی عملداری میں تھا۔اور حضرت عیسی قیصر کے باغی قرار پاچکے تھے۔پس وہ کشمیر ہی تھا جو شام کے ملک سے مشابہ تھا اور قرار کی جگہ تھی۔یعنی امن کی جگہ تھی یعنی قیصر روم کو اس سے کچھ تعلق نہ تھا۔( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 401 تا405) حقیقۃ الوحی (1907ء) افسوس کس قدر قرآن شریف کی تعریف کی جاتی ہے۔یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوْہ بے موجود ہے اس سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں۔مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ کسی شخص کا نہ مقتول ہونا نہ مصلوب ہونا اس بات کو ستلزم نہیں کہ وہ مع جسم عصری آسمان پر اٹھایا گیا ہو۔اگلی آیت میں صریح یہ لفظ موجود ہیں کہ لكِنْ شُبّه لَهُمْ ے یعنی یہودی قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے مگر اُن کو شبہ میں ڈالا گیا کہ ہم نے قتل کر دیا ہے۔پس محبہ میں ڈالنے کے لئے اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ کسی اور مومن کو مصلوب کر کے لعنتی بنایا جائے۔یا خود یہودیوں میں سے کسی کو حضرت عیسی کی شکل بنا کر صلیب پر چڑھا یا جاوے۔کیونکہ اس صورت میں ایسا شخص اپنے تئیں حضرت عیسی کا دشمن ظاہر کر کے اپنے اہل وعیال کے پتے اور نشان ا۔المؤمنون: 51 ۲۔النساء: 158