فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 234
براہین احمدیہ حصہ پنجم 234 فلسطین سے کشمیر تک جو کشمیر میں اب تک پائے جاتے ہیں۔اور کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں ان سے بھی مفصلاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں جو اس وقت شمار کی رو سے دو ہزار برس کے قریب گذر گیا ہے ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شاہزادہ نبی کہلاتا تھا۔اس کی قبر محلہ خان یار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہ کتابیں تو میری پیدائش سے بہت پہلے کشمیر میں شائع ہو چکی ہیں۔پس کیونکر کوئی خیال کر سکتا ہے کہ کشمیریوں نے افترا کے طور پر یہ کتابیں لکھی تھیں۔ان لوگوں کو اس افترا کی کیا ضرورت تھی اور کس غرض کے لئے انہوں نے ایسا افترا کیا ؟ اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ اب تک اپنی کمال سادہ لوحی سے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان پر مع جسم عنصری چلے گئے تھے اور پھر باوجود اس اعتقاد کے پورے یقین سے اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا کہ جو اپنے تئیں شہزادہ نبی کر کے مشہور کرتا تھا۔اور ان کی کتابیں بتلاتی ہیں کہ شمار کی رو سے اس زمانہ کو اب انیس سو برس سے کچھ زیادہ برس گزر گئے ہیں۔اس جگہ کشمیریوں کی سادہ لوحی سے ہمیں یہ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ اگر وہ اس بات کا علم رکھتے کہ شاہزادہ نبی بنی اسرائیل میں کون تھا اور وہ نبی کون ہے جس کو اب انیس سو برس گزر گئے تو وہ کبھی ہمیں یہ کتا بیں نہ دکھلاتے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہم نے ان کی سادہ لوحی سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے، کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو قوم کو تلاش کر نیوالا ہو چونکہ حضرت عیسی اپنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقے یہودیوں میں سے گم تھے کشمیر میں پہنچے تھے اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا اور یوز آسف کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔پس با وجود اس قدر دلائل واضحہ کے کیونکر اس بات سے انکار کیا جائے کہ یوز آسف دراصل حضرت عیسی علیہ السلام ہے ورنہ یہ بارثبوت ہمارے مخالفوں کی گردن پر ہے کہ وہ کون شخص ہے جو اپنے تئیں شاہزادہ نبی ظاہر کرتا تھا جس کا