فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 233
براہین احمدیہ حصہ پنجم 233 فلسطین سے کشمیر تک آیت مَّا دُمْتُ فِيهِم م کا منشاء ہے وہ سب لوگ تو حید پر قائم رہے بعد وفات حضرت عیسی علیہ السلام کے ان لوگوں کی اولا د بگڑ گئی۔یہ معلوم نہیں کہ کس پشت میں یہ خرابی پیدا ہوئی۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ تیسری صدی تک دین عیسائی اپنی اصلیت پر تھا بہر حال معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد وہ تمام لوگ پھر اپنے وطن کی طرف چلے آئے کیونکہ ایسا اتفاق ہو گیا کہ قیصر روم عیسائی ہو گیا پھر بے وطنی میں رہنا لا حاصل تھا۔اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر کی طرف سفر کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو بے دلیل ہو، بلکہ بڑے بڑے دلائل سے یہ امر ثابت کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ خود لفظ کشمیر بھی اس پر دلیل ہے کیونکہ لفظ کشمیر وہ لفظ ہے جس کو کشمیری زبان میں کشیر کہتے ہیں۔ہر ایک کشمیری اس کو کشیر بولتا ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ لفظ عبرانی ہے کہ جو کاف اور اشیر کے لفظ سے مرکب ہے اورا شیر عبرانی زبان میں شام کے ملک کو کہتے ہیں اور کاف مماثلت کے لئے آتا ہے۔پس صورت اس لفظ کی گائ شیر تھی یعنی کاف الگ اور اشیر الگ۔جس کے معنے تھے مانند ملک شام یعنی شام کے ملک کی طرح اور چونکہ یہ ملک حضرت عیسی علیہ السلام کی ہجرت گاہ تھا اور وہ سر د ملک کے رہنے والے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو تسلی دینے کے لئے اس ملک کا نام کا شیر رکھ دیا۔جس کے معنے ہیں انشیر کے ملک کی طرح۔پھر کثرت استعمال سے الف ساقط ہو گیا۔اور کشیر رہ گیا۔پھر بعد اس کے غیر قوموں نے جو کشیر کے باشندے نہ تھے اور نہ اس ملک کی زبان رکھتے تھے ایک میم اس میں زیادہ کر کے کشمیر بنادیا۔مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ کشمیری زبان میں اب تک کشیر ہی بولا جاتا اور لکھا جاتا ہے۔ما سوا اس کے کشمیر کے ملک میں اور بہت سی چیزوں کے اب تک عبرانی نام پائے جاتے ہیں بلکہ بعض پہاڑوں پر نبیوں کے نام استعمال پاگئے ہیں جن سے سمجھا جاتا ہے کہ عبرانی قوم کسی زمانہ میں ضرور اس جگہ آبادرہ چکی ہے جیسا کہ سلیمان نبی کے نام سے ایک پہاڑ کشمیر میں موجود ہے اور ہم اس مدعا کے ثابت کرنے کے لئے ایک لمبی فہرست اپنی بعض کتابوں میں شائع کر چکے ہیں جو عبرانی الفاظ اور اسرائیلی نبیوں کے نام پر مشتمل ہے