فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 232
براہین احمدیہ حصہ پنجم 232 فلسطین سے کشمیر تک أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ * صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حضور میں یہ عذر پیش کریں گے کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑے ہیں نہ میری زندگی میں تو اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ حضرت عیسی صلیب سے بچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے اور کشمیر میں ۸۷ برس عمر بسر کی تھی تو پھر یہ کہنا کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑ گئے صحیح نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا چاہیئے تھا کہ میرے کشمیر کے سفر کے بعد لوگ بگڑے ہیں کیونکہ وفات تو صلیب کے واقعہ سے ستاسی ۸۷ برس بعد ہوئی۔پس یادر ہے کہ ایسا وسوسہ صرف قلت تدبّر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ کشمیر کا سفر اس فقرہ کی ضد نہیں کیونکہ ما دُمُتُ فِیهِمُ کے یہ معنے ہیں کہ جب تک میں اپنی امت میں تھا جو میرے پر ایمان لائے تھے یہ معنے نہیں کہ جب تک میں اُن کی زمین میں تھا کیونکہ ہم قبول کرتے ہیں کہ حضرت عیسی زمین شام میں سے ہجرت کر کے کشمیر کی طرف چلے گئے تھے۔مگر ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ حضرت عیسی کی والدہ اور آپ کے حواری پیچھے رہ گئے تھے بلکہ تاریخ کی رو سے ثابت ہے کہ حواری بھی کچھ تو حضرت عیسی کے ساتھ اور کچھ بعد میں آپ کو آملے تھے جیسا کہ دھوما حواری حضرت عیسی کے ساتھ آیا تھا باقی حواری بعد میں آگئے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی رفاقت کے لئے صرف ایک ہی شخص اختیار کیا تھا یعنی دھوما کو جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے وقت صرف حضرت ابوبکر کو اختیار کیا تھا۔کیونکہ سلطنت رومی حضرت عیسی کو باغی قرار دے چکی تھی اور اس جرم سے پیلاطوس بھی قیصر کے حکم سے قتل کیا گیا تھا کیونکہ وہ در پردہ حضرت عیسی کا حامی تھا اور اس کی عورت بھی حضرت عیسیٰ کی مرید تھی۔پس ضرور تھا کہ حضرت عیسی اس ملک سے پوشیدہ طور پر نکلتے کوئی قافلہ ساتھ نہ لیتے اس لئے انہوں نے اس سفر میں صرف دھو ما حواری کو ساتھ لیا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے سفر میں صرف ابو بکر کو ساتھ لیا تھا اور جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی اصحاب مختلف راہوں سے مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے تھے۔ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری مختلف راہوں سے مختلف وقتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی خدمت میں جا پہنچے تھے۔اور جب تک حضرت عیسیٰ ان میں رہے جیسا کہ المائده: 118