فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 231

براہین احمدیہ حصہ پنجم 231 فلسطین سے کشمیر تک طرح ملزم کرتے ہیں کہ جب کہ تمہیں اقرار ہے کہ صاحب اس قبر کا جوسری نگر محلہ خانیار میں مدفون ہے حضرت عیسی علیہ السلام کا حواری تھا مگر اُس کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نبی تھا اور شاہزادہ تھا اور اس پر انجیل نازل ہوئی تھی تو اس صورت میں وہ حواری کیونکر ہو گیا۔کیا کوئی حواری کہہ سکتا ہے کہ میں شاہزادہ ہوں اور نبی ہوں اور میرے پر انجیل نازل ہوئی ہے۔پس کچھ شک نہیں کہ یہ قبر جو کشمیر میں ہے حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔اور جو لوگ اُن کو آسمان میں بٹھاتے ہیں اُن کو واضح رہے کہ وہ کشمیر میں یعنی سری نگر محلہ خانیار میں سوئے ہوئے ہیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اصحاب کہف کو مدت تک چھپایا تھا ایسے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی چھپارکھا اور اخیر میں ہم پر حقیقت کھول دی۔خدا تعالیٰ کے کاموں میں ایسے ہزار ہا نمونے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ کسی کو مع جسم آسمان پر بٹھا وے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 349 تا 351) انبیاء علیہم السلام کی نسبت یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کرتے ہیں۔جیسا کہ یہ ذکر صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی تھی۔اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔پس ضرور تھا کہ حضرت عیسی بھی اس سنت کو ادا کرتے۔سو انہوں نے واقعہ صلیب کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کی۔انجیل میں بھی اس ہجرت کی طرف اشارہ ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔اس جگہ نبی سے مراد انہوں نے اپنے وجود کو لیا ہے۔پس اس جگہ عیسائیوں کے لئے شرم کی جگہ ہے کہ وہ ان کو نبی نہیں بلکہ خدا قرار دیتے ہیں۔حالانکہ نبی وہ ہوتا ہے جو خدا سے الہام پاتا ہے۔پس خدا اور نبی کا الگ الگ ہونا ضروری ہے۔منہ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 350 حاشیہ ) بعض نادان اس جگہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جس حالت میں قرآن شریف کی یہ آیت که وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ * اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ المائده: 118