فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 230
براہین احمدیہ حصہ پنجم 230 فلسطین سے کشمیر تک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت باوجود اس کے کہ کفار عین غار ثور کے سر پر پہنچ گئے تھے پھر اُن کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے۔پس ایسے اعتراضات کا یہی جواب ہے کہ خدا کا خاص فضل جو خارق عادت طور پر نبیوں کے شامل حال ہوتا ہے ان کو بچاتا اور اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔رہی یہ بات کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کشمیر میں گئے تھے تو حواری اُن کے پاس کیوں نہ پہنچے تو اس کا یہ جواب ہے کہ عدم علم سے عدم کے لازم نہیں آتا۔آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ نہیں پہنچے۔ہاں چونکہ وہ سفر پوشیدہ طور پر تھا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر ہجرت کے وقت پوشیدہ طور پر تھا۔اس لئے وہ سفر ایک بڑے قافلہ کے ساتھ مناسب نہیں سمجھا گیا تھا جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی تو صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ساتھ تھے اور اُس وقت بھی دوسوکوس کا فاصلہ کر کے مدینہ میں جانا سہل امر نہ تھا۔اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ساٹھ ستر آدمی اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے مگر آپ نے صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا رفیق بنایا۔پس انبیاء کے اسرار میں دخل دینا ایک بیجا دخل ہے۔اور یہ کس طرح معلوم ہوا کہ بعد میں بھی حواری حضرت عیسی علیہ السلام کے ملنے کے لئے ملک ہند میں نہیں آئے بلکہ عیسائی اس بات کے خود قائل ہیں کہ بعض حواری اُن دنوں میں ملک ہند میں ضرور آئے تھے اور دھو ما حواری کا مدراس میں آنا اور اب تک مدراس میں ہر سال اُس کی یادگار میں عیسائیوں کا ایک اجتماع میلہ کی طرح ہونا یہ ایسا امر ہے کہ کسی واقف کار پر پوشیدہ نہیں۔بلکہ ہم لوگ جس قبر کو سری نگر کشمیر میں حضرت عیسی کی قبر کہتے ہیں عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری خیال کرتے ہیں کہ وہ کسی حواری کی قبر ہے۔حالانکہ صاحب قبر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نبی ہوں اور شاہزادہ ہوں اور میرے پرانجیل نازل ہوئی تھی اور کشمیر کی پُرانی تاریخی کتابیں جو ہمارے ہاتھ آئیں اُن میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی بنی اسرائیل میں سے تھا جو شاہزادہ نبی کہلاتا تھا۔اور اپنے ملک سے کشمیر میں ہجرت کر کے آیا تھا۔اور ان کتابوں میں جو تاریخ آمد لکھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بات پر اب ہمارے زمانہ میں اُنیس سو برس گزر گئے جب یہ نبی کشمیر میں آیا تھا۔اور ہم عیسائیوں کو اس