فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 229

229 فلسطین سے کشمیر تک براہین احمدیہ حصہ پنجم میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا۔اور یہی یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ مومن کی رُوح کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے اور بے دین اور کافر کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور وہ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو کافر اور بے دین سمجھتے تھے کہ اس شخص نے خدا پر افتراء کیا ہے اور یہ سچا نبی نہیں ہے۔اور اگر سچا ہوتا تو اُس کے آنے سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آتا۔اسی لئے وہ لوگ یہی عقیدہ رکھتے تھے اور اب تک رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی کی رُوح مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں گئی بلکہ نعوذ باللہ شیطان کی طرف گئی۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہود کو جھوٹا ٹھہرایا اور ساتھ ہی عیسائیوں کو بھی دروغ گو قرار دیا۔یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام پر بڑے بڑے افتراء کئے ہیں۔ایک جگہ طالمود میں جو یہودیوں کی حدیثوں کی کتاب ہے لکھا ہے کہ یسوع کی لاش کو جب دفن کیا گیا تو ایک باغبان نے جس کا نام یہودا اسکر یوطی تھا لاش کو قبر سے نکال کر ایک جگہ پانی کے روکنے کے واسطے بطور بندھ کے رکھ دیا۔یسوع کے شاگردوں نے جب قبر کو خالی پایا تو شور مچادیا کہ وہ مع جسم آسمان پر چلا گیا تب وہ لاش ملکہ ہمیلینیا کے روبروسب کو دکھائی گئی اور یسوع کے شاگر دسخت شرمندہ ہوۓ (لعنة الله على الكاذبين ) دیکھو جیوئش انسائیکلو پیڈ یا صفحہ ۱۷۲ جلد نمبرے۔یہ انسائیکلو پیڈیا یہودیوں کی ہے۔منہ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 338 تا 342 حاشیہ ) قولہ۔آپ کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے۔پس اول تو اُس زمانہ میں کشمیر تک پہنچنا کچھ آسان امر نہ تھا۔خصوصاً خفیہ طور پر اور پھر یہ اعتراض ہے کہ حواری اُن کے پاس کیوں جمع نہ ہوئے اور حضرت عیسی زندہ درگور کی طرح مخفی رہے۔اقول۔جس خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کشمیر کی طرف جانے کی ہدایت کی تھی وہی ان کا رہنما ہو گیا تھا۔پس نبی کے لئے یہ کیا تعجب کی بات ہے کہ کس طرح وہ کشمیر پہنچ گیا اور اگر ایسا ہی تعجب کرنا ہے تو ایک بے دین اس بات سے بھی تعجب کر سکتا ہے کہ کیونکر