فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 168

168 فلسطین سے کشمیر تک یورپ کے ایک حصہ میں یوز آسف کے نام پر ایک گرجا بھی طیار کیا گیا ہے اور جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نورالدین کے نام سے مشہور ہیں کشمیر سری نگر میں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبر سے تحقیقات کی۔آخر ثابت ہو گیا کہ فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے۔یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنے ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھے کرنے والا۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کشمیر کے بعض باشندے اس قبر کا نام عیسی صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں۔اور اُن کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا۔جس کو قریباً اُنیس ۱۹۰۰ سو برس آئے ہوئے گذر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا اور اُس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلا د شام کی طرف سے آیا تھا۔نام اس کا یوز ہے۔پھر وہ کتبہ سکھوں کے عہد میں محض تعصب اور عناد سے مٹایا گیا اب وہ الفاظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے۔اور وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے اور بیت المقدس کی طرف منہ ہے اور قریبا سرینگر کے پانسو آدمی نے اس محضر نامہ پر بدین مضمون دستخط اور مہریں لگائیں کہ کشمیر کی پرانی تاریخ سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آ گیا تھا اور بہت بڑھا ہو کر فوت ہوا اور اُس کو عیسی صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی۔اب بتلاؤ کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی اور اگر باوجود اس بات کے کہ اتنی شہادتیں قرآن اور حدیث اور اجماع اور تاریخ اور نسخہ مرہم عیسی اور وجود قبر سرینگر میں اور معراج میں بزمرہ اموات دیکھے جانا اور عمر ایک سوئیس سال مقرر ہونا اور حدیث سے ثابت ہونا کہ واقعہ صلیب کے بعد وہ کسی اور ملک کی طرف چلے گئے تھے اور اسی سیاحت کی وجہ سے اُن کا نام نبی سیاح مشہور تھا۔یہ تمام شہادتیں اگر ان کے مرنے کو ثابت نہیں کرتیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نبی بھی فوت نہیں ہوا۔(تحفہ گولڑ ویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحه 99 تا 101 )