فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 169

تحفہ گولڑو 169 فلسطین سے کشمیر تک یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کو غور سے دیکھنے اور اُن کے تاریخی واقعات پر نظر ڈالنے سے جو تواتر کے اعلیٰ درجہ پر پہنچے ہوئے ہیں جن سے کسی طرح انکار نہیں ہوسکتا یہ حال معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں اوائل حال میں تو بے شک یہودی ایک مسیح کے منتظر تھے تا وہ ان کو غیر قوموں کی حکومت سے نجات بخشے اور جیسا کہ ان کی کتابوں کی پیشگوئیوں کے ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے داؤد کے تخت کو اپنی بادشاہی سے پھر قائم کرے چنانچہ اس انتظار کے زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے دعوی کیا کہ وہ مسیح میں ہوں اور میں ہی داؤد کے تخت کو دوبارہ قائم کروں گا۔سو یہودی اس کلمہ سے اوائل حال میں بہت خوش ہوئے اور صد با عوام الناس بادشاہت کی امید سے آپ کے معتقد ہو گئے اور بڑے بڑے تاجر اور رئیس بیعت میں داخل ہوئے لیکن کچھ تھوڑے دنوں کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام نے ظاہر کر دیا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں ہے اور میری بادشاہت آسمان کی ہے۔تب اُن کی وہ سب اُمیدیں خاک میں مل گئیں اور ان کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص دوبارہ تخت داؤد کو قائم نہیں کرے گا بلکہ وہ کوئی اور ہوگا۔پس اسی دن سے بغض اور کینہ ترقی ہونا شروع ہوا اور ایک جماعت کثیر مرتد ہو گئی پس ایک تو یہی وجہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھی کہ یہ شخص نبیوں کی پیشگوئی کے موافق بادشاہ ہو کر نہیں آیا۔پھر کتابوں پر غور کرنے سے ایک اور وجہ یہ بھی پیدا ہوئی کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا تھا کہ مسیح بادشاہ جس کی یہودیوں کو انتظار تھی وہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے چنانچہ انہوں نے یہ عذر حضرت مسیح کے سامنے پیش بھی کیا لیکن آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس جگہ ایلیا سے مراد مثیل ایلیا ہے یعنی بی۔افسوس کہ اگر جیسا کہ اُن کی نسبت احیاء موتی کا گمان باطل کیا جاتا ہے وہ حضرت ایلیا کو زندہ کر کے دکھلا دیتے تو اس قدر جھگڑا نہ پڑتا اور نص کے ظاہری الفاظ کی رُو سے حجت پوری ہو جاتی۔غرض یہودی اُن کے بادشاہ نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے اور ملا کی نبی کی کتاب کی رو سے یہ دوسرا شک پیدا ہوا پھر کیا تھا سب کے سب تکفیر اور گالیوں پر آگئے اور یہودیوں کے علماء نے اُن کے لئے ایک کفر کا فتویٰ طیار کیا اور ملک کے تمام علماء کرام اور