فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 167
167 فلسطین سے کشمیر تک تحفہ گولڑویہ ( 1900ء) غرض حضرت مسیح علیہ السلام کی موت قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور ا کا برائمہ اربعہ اور اہل کشوف کے کشوف سے ثابت ہے اور اس کے سوا اور بھی دلائل ہیں۔جیسا کہ مرہم عیسی جو ہزار طبیب سے زیادہ اس کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے ہیں جن کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مرہم جو زخموں اور خون جاری کے لئے نہایت مفید ہے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے تیار کی گئی تھی اور واقعات سے ثابت ہے کہ نبوت کے زمانہ میں صرف ایک ہی صلیب کا حادثہ اُن کو پیش آیا تھا کسی اور سقطہ یا ضربہ کا واقعہ نہیں ہوا پس بلاشبہ وہ مرہم انہی زخموں کے لئے تھی۔اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے زندہ بچ گئے اور مرہم کے استعمال سے شفا پائی اور پھر اس جگہ وہ حدیث جو کنز العمال میں لکھی ہے حقیقت کو اور بھی ظاہر کرتی ہے۔یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کو اس ابتلا کے زمانہ میں جو صلیب کا ابتلا تھا حکم ہوا کہ کسی اور ملک کی طرف چلا جا کہ یہ شریر یہودی تیری نسبت بدا رادے رکھتے ہیں اور فرمایا کہ ایسا کر جوان ملکوں سے دُور نکل جاتا تجھ کو شناخت کر کے یہ لوگ دُکھ نہ دیں۔اب دیکھو کہ اس حدیث اور مرہم عیسی کا نسخہ اور کشمیر ک قبر کے واقعہ کو باہم ملا کر کسی صاف اصلیت اس مقولہ کی ظاہر ہو جاتی ہے۔کتاب سوانخ یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا اور پھر اُسی کتاب میں اُس نبی کی تعلیم لکھی ہے اور وہ تعلیم مسئلہ تثلیت کو الگ رکھ کر بعینہ انجیل کی تعلیم ہے۔انجیل کی مثالیں اور بہت سی عبارتیں اُس میں بعینہ درج ہیں چنانچہ پڑھنے والے کو کچھ بھی اس میں شک نہیں رہ سکتا کہ انجیل اور اس کتاب کا مؤلف ایک ہی ہے اور طرفہ تر یہ کہ اس کتاب کا نام بھی انجیل ہی ہے۔اور استعارہ کے رنگ میں یہودیوں کو ایک ظالم باپ قرار دے کر ایک لطیف قصہ بیان کیا ہے جو عمدہ نصائح سے پر ہے اور مدت ہوئی کہ یہ کتاب یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور