فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 166
نه غزنویه 166 فلسطین سے کشمیر تک کرتے رہے اور سکھوں کے زمانہ تک اُن کی یادگار کا کوہ سلیمان پر کتبہ موجود تھا آخر سرینگر میں ایک سو چھپیس برس کی عمر میں وفات پائی اور خان یار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدس مزار ہے۔تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498تا499) مرہم عیسی ایک نہایت مبارک مرہم ہے جس سے حضرت عیسی علیہ السلام کے زخم اچھے ہوئے تھے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے سولی سے نجات پائی تو صلیب کی کیلوں کے جو زخم تھے جن کو آپ نے حواریوں کو بھی دکھلایا تھاوہ اسی مرہم سے اچھے ہوئے تھے۔یہ مرہم طب کی ہزار کتاب میں درج ہے اور قانون بوعلی سینا میں بھی مندرج ہے اور رومیوں اور یونانیوں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور مسلمانوں غرض تمام فرقوں کے طبیبوں نے اس مرہم کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔۔منه تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498 حاشیہ) تحفہ غزنویہ (1900ء) اور انجیل میں خود تراشیدہ نشان مانگنے والوں کو صاف لفظوں میں حضرت مسیح مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرام کا رلوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو بجز یونس نبی کے نشان کے اور کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا یعنی نشان یہ ہوگا کہ باوجود دشمنوں کی سخت کوشش کے جو مجھے سولی پر ہلاک کرنا چاہتے ہیں میں یونس نبی کی طرح قبر کے پیٹ میں جو مچھلی سے مشابہ ہے زندہ ہی داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا اور پھر یونس کی طرح نجات پا کر کسی دوسرے ملک کی طرف جاؤں گا۔یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے جیسا کہ اُس حدیث سے ثابت ہے کہ جو کنز العمال میں ہے یعنی یہ کہ عیسی علیہ السلام صلیب سے نجات پا کر ایک سرد ملک کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی کشمیر جس کے شہر سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 540)