فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 155
تریاق القلوب 155 فلسطین سے کشمیر تک جھوٹ اور افترا ہے۔غرض یہ ثبوت نظری حد تک محدود نہیں بلکہ نہایت صاف اور اجلی بدیہیات ہے جس سے انکار کرنا نہ صرف بعید از انصاف بلکہ انسانی حیا سے دُور ہے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 145) تیسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ آسمانی نشانوں سے اسلام کی برکت اور عزت ظاہر کی جائے اور زمین کے واقعات سے امور محسوسہ بدیہیہ کی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے بلکہ اپنی طبعی موت سے مرگئے۔اور یہ تیسری صورت ایسی ہے کہ ایک متعصب عیسائی بھی اقرار کر سکتا ہے کہ اگر یہ بات بپایہ ثبوت پہنچ جائے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے تو پھر عیسائی مذہب باطل ہے اور کفارہ اور تثلیث سب باطل اور پھر اس کے ساتھ جب آسمانی نشان بھی اسلام کی تائید میں دکھلائے جائیں تو گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئے تمام زمین کے عیسائیوں پر رحمت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔سو یہی تیسری صورت ہے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اور کوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کر سکے۔اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دکھلا سکے۔اور دوسرے خدا کے فضل اور کرم اور رحم نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان پر چڑھے بلکہ صلیب سے نجات پاکر کشمیر کے ملک میں آئے اور اسی جگہ وفات پائی۔یہ باتیں صرف قصہ کہانیوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ بہت سے کامل ثبوتوں کے ساتھ ثابت ہو گئی ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں مفصل بیان کر دیا ہے۔اس لئے میں زور سے اور دعوے سے کہتا ہوں کہ جس کسر صلیب کا بخاری میں وعدہ تھا اس کا پورا سامان مجھے عطا کیا گیا ہے اور ہر ایک معقل گواہی دے گی کہ بجز اس صورت کے اور کوئی مؤثر اور معقول صورت کسر صلیب کی نہیں۔اب میں سوال کرتا ہوں کہ اگر میں جھوٹا ہوں اور مسیح موعود نہیں ہوں تو ہمارے مخالف علماء اسلام بتلاویں کہ جب اُن کا مسیح موعود دنیا میں ظاہر ہوگا تو وہ کسر صلیب کے لئے کیا