فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 154

ستاره قیصریه ، تریاق ا 154 ستارہ قیصریہ (1899ء) فلسطین سے کشمیر تک بہت سے قطعی دلائل اور نہایت پختہ وجوہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے اس پاک نبی کو صلیب پر سے بچالیا۔اور آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ مر کر بلکہ زندہ ہی قبر میں نشی کی حالت میں داخل کیے گئے۔اور پھر زندہ ہی قبر سے نکلے جیسا کہ آپ نے انجیل میں خود فرمایا تھا کہ میری حالت یونس نبی کی حالت سے مشابہہ ہوگی۔آپ کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں کہ یونس نبی کا معجزہ دکھلاؤں گا سو آپ نے یہ معجزہ دکھلایا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔یہ وہ باتیں ہیں یہ جوا انجیلوں سے ہمیں معلوم ہوتی ہیں۔لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی خوشخبری جو ہمیں ملی ہے وہ یہ ہے کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے۔اور ایک مدت تک کو دلغمان میں رہے۔اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سرینگر میں آپ کا انتقال ہوا۔اور سرینگر محلہ خانیار میں آپ کا مزار ہے چنانچہ اس بارے میں میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں۔یہ ایک بڑی فتح ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اس کا نتیجہ ہوگا کہ یہ دو بزرگ تو میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو مدت سے بچھڑی ہوئی ہیں۔باہم شیر وشکر ہو جائیں گی۔(ستارہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 123 تا 124 ) تریاق القلوب (1900ء) میں نشانوں کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور ایک بڑا بھاری معجزہ میرا یہ ہے کہ میں نے حسی بدیہی ثبوتوں کے ذریعہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو ثابت کر دیا ہے اور ان کی جائے وفات اور قبر کا پتہ دے دیا ہے۔چنانچہ جو شخص میری کتاب مسیح ہندوستان میں اوّل سے آخر تک پڑھے گا۔گو وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی یا آریہ ممکن نہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اس بات کا وہ قائل نہ ہو جائے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کا خیال لغو اور