فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 156
تریاق القلوب 156 فلسطین سے کشمیر تک کارروائی کرے گا اور ہمیں معقول طور پر سمجھا ئیں کہ کیا وہ ایسی کارروائی ہوگی جس سے چالیس کروڑ عیسائی اپنے دین کا باطل ہونا دلی یقین سے سمجھ سکے۔اس سوال کے جواب میں ہمارے گرفتار تقلید مولوی بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ جب ان کا مسیح آئے گا تو لوگوں کو تلوار سے مسلمان کرے گا اور ایسا سخت دل ہوگا کہ جزیہ بھی قبول نہیں کرے گا۔اس کی تقسیم اوقات یہ ہوگی کہ کچھ حصہ دن کا تو لوگوں کو قتل کرنے میں بسر کرے گا اور کچھ حصہ دن کا جنگلوں میں جا کرسؤروں کو مارتا رہے گا۔اب ہر ایک عظمند موازنہ کرسکتا ہے کہ کیا وہ امور جو اشاعت اسلام اور کسر صلیب کے لئے ہم پر کھولے گئے ہیں وہ دلوں کو کھینچنے والے اور مؤثر معلوم ہوتے ہیں یا ہمارے مسلمان مخالفوں کے فرضی مسیح موعود کا یہ طریق کہ گویا وہ آتے ہی بے خبر اور غافل لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے گا۔یادر ہے کہ عیسائی مذہب اس قدر دنیا میں پھیل گیا ہے کہ صرف آسمانی نشان بھی اس کے زیر کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتے کیونکہ مذہب کو چھوڑ نا بڑا مشکل امر ہے۔لیکن یہ صورت کہ ایک طرف تو آسمانی نشان دکھلائے جائیں اور دوسرے پہلو میں اُن کے مذہب اور اُن کے اصولوں کا واقعات حقہ سے تمام تانا بانا تو ڑ دیا جائے اور ثابت کر دیا جائے کہ حضرت مسیح کا مصلوب ہونا اور پھر آسمان پر چڑھ جانا دونوں باتیں جھوٹ ہیں۔یہ طرز ثبوت ایسی ہے کہ بلا شبہ اس قوم میں ایک زلزلہ پیدا کر دے گی۔کیونکہ عیسائی مذہب کا تمام مدار کفارہ پر ہے اور کفارہ کا تمام مدار صلیب پر اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفارہ بھی نہ رہا۔اور جب کفارہ نہ رہا تو مذہب بنیاد سے گر گیا۔ہم اپنے بعض رسالوں میں یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ صلیب کا عقیدہ خود ایسا ہے جس سے حضرت مسیح کسی طرح بچے نبی نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ جبکہ توریت کی رو سے مصلوب ملعون ہوتا ہے اور لعنت کا مفہوم لغت کے رو سے یہ ہے کہ کسی شخص کا دل خدا تعالیٰ سے بکلی برگشتہ ہو جائے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اُس سے بیزار ہو جائے اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اُس کا دشمن ہو جائے۔اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔سو ملعون ہو جانا اور لعنتی بن جانا جس کا مفہوم اس قدر بد ہے۔یہ سخت تاریکی کیونکر مسیح جیسے راستباز کے دل پر وارد ہوسکتی ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں نے کفارہ کا منصوبہ بنانے