فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 153

153 مسیح ہندوستان میں فلسطین سے کشمیر تک ہے کہ اس روایت کی صداقت کی کوئی اصلی بنیا دضرور ہوگی۔بلیو (BELLEW ) کی رائے ہے کہ اسرائیلی رشتہ کا درحقیقت سچا ہونا ممکن ہے مگر وہ بیان کرتا ہے کہ افغانوں کی تین بڑی شاخوں میں سے جو اپنے تئیں قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں کم سے کم ایک شاخ سارا بور کے نام سے موسوم ہے اور یہ لفظ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے میں سورج بنسی راجپوتوں کا نام تھا جن کی نسبت یہ معلوم ہے کہ ان کی بستیاں مہا بھارت کی لڑائی میں چندر بنسی خاندان سے شکست کھا کر افغانستان میں آبسی تھیں۔اس طرح معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ افغان بنی اسرائیل ہوں جو قدیمی راجپوتوں میں مل گئے ہوں اور ہمیشہ سے میری نظر میں افغانوں کے اصل ونسل کے مسئلہ کا صحیح حل نہایت ہی اغلب طور پر یہی معلوم ہوتا رہا ہے۔بہر نمط آج کل کے افغان روایت و تامل کی بنا پر اپنے تئیں برگزیدہ قوم یعنی ابراہیم کی اولاد میں سے شمار کرتے ہیں۔ان تمام تحریرات کو جو نامی مؤلفوں کی کتابوں میں سے ہم نے لکھی ہیں یکجائی طور پر تصور میں لانے سے ایک صادق کو یقین کامل ہو سکتا ہے کہ یہ قو میں جو افغان اور کشمیری اس ملک ہندوستان اور اس کے حدود اور نواح میں پائی جاتی ہیں دراصل بنی اسرائیل ہیں۔اور ہم اس کتاب کے دوسرے حصہ میں انشاء اللہ زیادہ تر تفصیل سے اس بات کو ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر دور دراز یعنی ہندوستان کے سفر کی علت غائی یہی تھی کہ تا وہ اس فرض سے سبکدوش ہو جائیں جو تمام اسرائیلی قوموں کو تبلیغ کا فرض ان کے ذمہ تھا جیسا کہ وہ انجیل میں اس بات کی طرف اشارہ بھی کر چکے ہیں۔پس اس حالت میں یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ وہ ہندوستان اور کشمیر میں آئے ہوں۔بلکہ تعجب اس بات میں ہے کہ بغیر ادا کرنے اپنے فرض منصبی کے وہ آسمان پر جا بیٹھے ہوں۔اب ہم اس حصہ کو ختم کرتے ہیں۔وَالسّلام على مَنِ اتَّبع الهدى ( مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 93 تا 107 )