فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 152

152 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں نہیں کرتے۔اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہم بنی اسرائیل ہیں یعنی ان فرقوں کی اولاد ہیں جن کو بخت نصر قید کر کے بابل لے گیا تھا۔مگر سب نے پشتو زبان کو اختیار کر لیا ہے۔اور سب اسی مجموعه قوانین ملکی کو مانتے ہیں جس کا نام پکتان والی ہے اور جس کے بہت سے قواعد پرانی موسوی شریعت سے عجیب طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور بعض اقوام راجپوت کے پرانے رسم و رواج سے بھی ملتے جلتے ہیں۔اگر ہم اسرائیلی آثار کوز پر نظر رکھ کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ پٹھانوں کی قومیں دو بڑے حصوں میں منقسم ہو سکتی ہیں۔یعنی اول وہ فرقے ہندی الاصل ہیں جیسے وزیری، آفریدی ، اورک زئی وغیرہ۔دوسرے افغان جو سامی (SEMITIC) ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سرحد پر زیادہ آبادی انہی کی ہے۔اور کم سے کم یہ ممکن ہے کہ پاکنان والی جو ایک غیر مکتوب ضابطہ قواعد ملکی ہے۔سب کا مل کر تیار ہوا ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ موسوی احکام راجپوتی رسوم سے ملے ہوئے ہیں جن کی ترمیم اسلامی رسوم نے کی ہے۔وہ افغان جو اپنے تئیں درانی کہلاتے ہیں اور جب سے کہ درانی سلطنت کی بنیاد پڑی ہے یعنی ۱۵۰ سال سے اپنے تئیں درانی ہی نامزد کر تے آئے ہیں کہتے ہیں کہ وہ اصلا اسرائیلی فرقوں کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل کش (قیس) سے جاری ہوتی ہے جس کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پٹھان کے نام سے موسوم کیا۔جس کے معنی سریانی زبان میں سگان کے ہیں کیونکہ اس نے لوگوں کو اسلام کی لہروں میں (کشتی کی طرح ) چلانا تھا۔اگر ہم قوم افغان کا قوم اسرائیل سے کوئی قدیمی رشتہ نہ مانیں تو ان اسرائیلی ناموں کی کوئی وجہ بیان کرنا ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے جو عام طور پر رائج ہیں۔اور بعض رسوم مثلاً عید فضح کے تہوار کے رائج ہونے کی وجہ بیان کرنا اور بھی ہمارے لئے دشوار ہو جاتا ہے۔اور قوم افغان کی یوسف زئی شاخ اگر عید فصح کی حقیقت کو سمجھ کر نہیں مناتے تو کم سے کم ان کا تہوار عید فضح کی نہایت عجیب اور عمدہ نقل ہے۔ایسا ہی اسرائیلی رشتہ نہ ماننے کی حالت میں ہم اس اصرار کی بھی کوئی وجہ نہیں بتلا سکتے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ افغانوں کو اس روایت کے بیان کرنے اور اس پر قائم رہنے میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا