فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 102

مسیح ہندوستان میں 102 فلسطین سے کشمیر تک کو جب ہم سوتے تھے اس کے شاگر د یعنی مسیح کے شاگرد آ کر اسے چرا کر لے گئے۔دیکھو یہ کیسی بیچی اور نا معقول باتیں ہیں۔اگر اس سے مطلب یہ ہے کہ یہودی اس بات کو پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ یسوع مُردوں میں سے جی اٹھا ہے اس لئے انہوں نے پہرہ والوں کو رشوت دی تھی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ ان کی قوم میں مشہور نہ ہو تو کیوں یسوع نے جس کا یہ فرض تھا کہ اپنے اس معجزہ کی یہودیوں میں اشاعت کرتا اس کو مخفی رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اس کے ظاہر کرنے سے منع کیا۔اگر یہ کہو کہ اس کو پکڑے جانے کا خوف تھا تو میں کہتا ہوں کہ جب ایک دفعہ خدائے تعالیٰ کی تقدیر اس پر وارد ہو چکی اور وہ مرکز پھر جلالی جسم کے ساتھ زندہ ہو چکا تو اب اس کو یہودیوں کا کیا خوف تھا۔کیونکہ اب یہودی کسی طرح اس پر قدرت نہیں پاسکتے تھے۔اب تو وہ فانی زندگی سے ترقی پا چکا تھا۔افسوس کہ ایک طرف تو اس کا جلالی جسم سے زندہ ہونا اور حواریوں کو ملنا اور جلیل کی طرف جانا اور پھر آسمان پر اٹھائے جانا بیان کیا گیا ہے اور پھر بات بات میں اس جلالی جسم کے ساتھ بھی یہودیوں کا خوف ہے اس ملک سے پوشیدہ طور پر بھاگتا ہے کہ تا کوئی یہودی دیکھ نہ لے اور جان بچانے کے لئے سترہ سے کوس کا سفر جلیل کی طرف کرتا ہے۔بار بار منع کرتا ہے کہ یہ واقعہ کسی کے پاس بیان نہ کرو۔کیا یہ جلالی جسم کے چھن اور علامتیں ہیں ؟ نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی جلالی اور نیا جسم نہ تھا وہی زخم آلودہ جسم تھا جو جان نکلنے سے بچایا گیا۔اور چونکہ یہودیوں کا پھر بھی اندیشہ تھا اس لئے برعایت ظاہر اسباب مسیح نے اس ملک کو چھوڑ دیا۔اس کے مخالف جس قدر باتیں بیان کی جاتی ہیں وہ سب کی سب بیہودہ اور خام خیال ہیں کہ پہرہ داروں کو یہودیوں نے رشوت دی کہ تم یہ گواہی دو کہ حواری لاش کو چُرا کر لے گئے اور ہم سوتے تھے۔اگر وہ سوتے تھے تو ان پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ تم کو سونے کی حالت میں کیونکر معلوم ہو گیا کہ یسوع کی لاش کو چوری اٹھالے گئے۔اور کیا صرف اتنی بات سے کہ یسوع قبر میں نہیں کوئی عقلمند سمجھ سکتا تھا کہ وہ آسمان پر چلا گیا ہے۔کیا دنیا میں اور اسباب نہیں جن سے قبریں خالی رہ جاتی ہیں؟ اس بات کا بار ثبوت تو مسیح کے ذمہ تھا کہ وہ آسمان پر جانے کے وقت دو تین سو یہودیوں کو ملتا اور پلاطوس سے بھی ملاقات کرتا۔جلالی