فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 101
101 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں دیئے ہیں۔شجرہ نسب میسیج کو بھی صحیح طور پر لکھ نہ سکے۔انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی عقل کچھ موٹی تھی یہاں تک کہ بعض حضرت مسیح کو بھوت سمجھ بیٹھے اور ان انجیلوں پر قدیم سے یہ بھی الزام چلا آتا ہے کہ وہ اپنی صحت پر باقی نہیں رہیں۔اور خود جس حالت میں بہت سی اور بھی کتابیں انجیل کے نام سے تالیف کی گئیں۔تو ہمارے پاس کوئی پختہ دلیل اس بات پر نہیں کہ کیوں ان دوسری کتابوں کے سب کے سب مضمون رڈ کئے جائیں اور کیوں ان انجیلوں کا گل لکھا ہوا مان لیا جائے۔ہم خیال نہیں کر سکتے کہ کبھی دوسری انجیلوں میں اس قدر بے اصل مبالغات لکھے گئے ہیں جیسا کہ ان چارانجیلوں میں۔عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ان کتابوں میں مسیح کا پاک اور بے داغ چال چلن مانا جاتا ہے اور دوسری طرف اس پر ایسے الزام لگائے جاتے ہیں جو کسی راستباز کی شان کے ہرگز مناسب نہیں ہیں۔مثلاً اسرائیلی نبیوں نے یوں تو توریت کے منشاء کے موافق ایک ہی وقت میں صد ہا بیویوں کو رکھا تا پاکوں کی نسل کثرت سے پیدا ہو۔مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ کسی نبی نے اپنی بے قیدی کا یہ نمونہ دکھلایا کہ ایک نا پاک بد کردار عورت اور شہر کی مشہور فاسقہ اس کے بدن سے اپنے ہاتھ لگاوے اور اس کے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ملے اور اپنے بال اس کے پاؤں پر ملے۔اور وہ یہ سب کچھ ایک جوان ناپاک خیال عورت سے ہونے دے اور منع نہ کرے۔اس جگہ صرف نیک ظنی کی برکت سے انسان ان اوہام سے بچ سکتا ہے جو طبعاً ایسے نظارہ کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔لیکن بہر حال یہ نمونہ دوسروں کے لئے اچھا نہیں۔غرض ان انجیلوں میں بہت سی باتیں ایسی بھری پڑی ہیں کہ وہ بتلا رہی ہیں کہ یہ انجیلیں اپنی اصلی حالت پر قائم نہیں رہیں یا ان کے بنانے والے کوئی اور ہیں حواری اور ان کے شاگرد نہیں ہیں۔مثلاً انجیل متی کا یہ قول اور یہ بات آج تک یہودیوں میں مشہور ہے۔کیا اس کا لکھنے والامتی کو قراردین صحیح اور مناسب ہوسکتا ہے؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس انجیل متی کا لکھنے والا کوئی اور شخص ہے جو متی کی وفات کے بعد گذرا ہے۔پھر اسی انجیل متی باب ۲۸ آیت ۱۲و۱۳ میں ہے۔تب انہوں نے یعنی یہودیوں نے بزرگوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر صلاح کی اور ان پہرہ والوں کو بہت روپے دیئے اور کہا تم کہو کہ رات