فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 103

مسیح ہندوستان میں 103 فلسطین سے کشمیر تک جسم کے ساتھ اس کو کس کا خوف تھا مگر اس نے یہ طریق اختیار نہیں کیا اور اپنے مخالفوں کو ایک ذرہ ثبوت نہیں دیا بلکہ خوفناک دل کے ساتھ جلیل کی طرف بھاگا۔اس لئے ہم قطعی طور پر یقین رکھتے اور مانتے ہیں کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ وہ اس قبر میں سے نکل گیا جو کو ٹھے کی طرح کھڑ کی دار تھی اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ پوشیدہ طور پر حواریوں کو ملا مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ اس نے کوئی نیا جلالی جسم پایا۔وہی جسم تھا اور وہی زخم تھے اور وہی خوف دل میں تھا کہ مبادا بد بخت یہودی پھر پکڑ لیں۔متی باب ۲۸ آیت ۷ و ۸ و ۹ و ۱۰ کوغور سے پڑھو۔ان آیات میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ وہ عورتیں جن کو کسی نے یہ پستہ دیا تھا کہ مسیح جیتا ہے اور جلیل کی طرف جا رہا ہے اور کہنے والے نے چپکے سے یہ بھی کہا تھا کہ شاگردوں کو جا کر یہ خبر کر دو۔وہ اس بات کو سن کر خوش تو ہو ئیں مگر بڑی خوفناک حالت میں روانہ ہوئیں یعنی یہ اندیشہ تھا کہ اب بھی کوئی شریر یہودی مسیح کو پکڑ نہ لے۔اور آیت ۹ میں ہے کہ جب وہ عورتیں شاگردوں کو خبر دینے جاتی تھیں تو یسوع انہیں ملا اور کہا سلام۔اور آیت دس میں ہے کہ یسوع نے انہیں کہا مت ڈرو یعنی میرے پکڑے جانے کا اندیشہ نہ کرو پر میرے بھائیوں کو کہو کہ جلیل کو جائیں وہاں مجھے دیکھیں گے۔یعنی یہاں میں ٹھہر نہیں سکتا کہ دشمنوں کا اندیشہ ہے۔غرض اگر فی الحقیقت مسیح مرنے کے بعد جلالی جسم کے ساتھ زندہ ہوا تھا تو یہ بار ثبوت اس پر تھا کہ وہ ایسی زندگی کا یہودیوں کو ثبوت دیتا۔مگر ہم جانتے ہیں کہ وہ اس بار ثبوت سے سبکدوش نہیں ہوا۔یہ ایک بدیہی بیہودگی ہے کہ ہم یہودیوں پر الزام لگاویں کہ انہوں نے مسیح کے دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت کو روک دیا بلکہ مسیح نے خود اپنے دوبارہ زندہ ہونے کا ایک ذرہ ثبوت نہیں دیا بلکہ بھاگنے اور چھپنے اور کھانے اور سونے اور زخم دکھلانے سے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 16 تا 50) نوٹ: اس جگہ مسیح نے عورتوں کو ان الفاظ سے تسلی نہیں دی کہ اب میں نئے اور جلالی جسم کے ساتھ اٹھا ہوں اب میرے پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔بلکہ عورتوں کو کمزور دیکھ کر معمولی تسلی دی جو ہمیشہ مرد عورتوں کو دیا کرتے ہیں۔غرض جلالی جسم کا کوئی ثبوت نہ دیا بلکہ اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلا کر معمولی جسم کا ثبوت دے دیا۔منہ