بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 98 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 98

۱۹۳ ۱۹۲ حاصل کیا۔اور پھر ان میں اپنی کتاب بہائی تحریک پر تبصرہ میں شریعیت تیار کرنا شروع کر دی جس کا نام انہوں نے البیان تجویز کیا۔وہ من وعن شائع کر دیا۔ورنہ کسی بزعم خود محفل ملی ہائی" کو توفیق نہیں اپنے اعلان کے مطابق اس کتاب کے انمیشی حصے مرتب نہ کر سکے۔امین ملی کہ وہ اقدس کو اپنی طرف سے شائع کرتی۔بہائیوں کے زعیم جناب قریبا ساڑھے آٹھ حصے یعنی نصف کتاب سے بھی کم لکھ سکے تھے۔ہر قیق عبد البہاء نے بہائیوں کو اقدس کے شائع کرنے سے منع کر رکھا ہے۔کر دیئے گئے۔ہم ابھی آپ کے سامنے باب کی نوشتہ شریعت البیان کے چند احکام ذکر کریں گے۔باب کے قتل کئے جانے کے بعد اس تحر یاب رجواب نامه جمعیت لاہائی مطبوعہ مصر، 6 آخر کچھ تو ہے جس کی رازداری ہے! کے افراد دو معنوں میں بٹ گئے۔کچھ تو میرزا یحی الملقب صبح ازل حضرات! ایک طرف یہ بہائیوں کی اقدس ہے۔اور دوسری طرف کے تابع ہو گئے اور ان کی کہلائے۔اور کچھ مرزا حسین علی نوری المذہب خدا کا کام عظیم ہے۔درحقیقت تو ان میں موازہ نہ کا سوال ہی بہاء اللہ کے ساتھ ہو گئے اور بھائی کہلائے۔ہاں کچھ ایسے بھی پیدا نہیں ہوتا۔مگر آج ہم اس موازنہ کو محض بہائیوں پر اتمام محبت اور آج تک نہیں جو بابی کے بانی ہی رہے۔صبح ازل اور بہاء اللہ کی خاطر بطور ایک مقالہ پیش کرتے ہیں۔ایک شاعر عمومی رنگ میں اپنے اپنے مریدوں کی درخواستوں پر اپنی اپنی جگہ پر یعنی قبرص میں اور کہتا ہے ہے تا نباشد در مقابل روئے مکر وہ وسیاه کی چه دانستے جمال شاہد گلفام را میں مجھے بیٹھے البیان کی بجائے ایک ایک نئی شریعت ایجاد کرنے کی کوشش کی۔صبح ازل نے المستيقط نامی کتاب لکھی اور است البیان کا ناسخ ٹھہرایا۔اور بہاء اللہ نے الاقدس" نامی کتاب اس موازنہ کے ذکر سے قبل یہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔کہ بابی مرتب کی اور ایسے البیان کا ناسخ قرار دیا۔بہاء اللہ کے بھائی : در بر تحریک کے بانی جناب علی محمد باب کے گرفتار ہونے پر باہیوں نے اپنی ان سے علیحدہ رہے اور وہ ان کی تحریک میں شامل نہ ہوئے، بلکہ ان میں بدشت کا نفرنس میں قرآنی شریعیت کو منسوخ قرار دیکر نئی شریعت یا ہم مقدمہ بازی ہوتی رہی۔اور باہمی شدید عدادت رہی۔پس با تیون بنانے کی تجویز پاس کی تھی۔اس تجویز کے بانی مبانی مرزا حسین علی نوری یعنی از لیوں ، اور جھائیوں نے اس اندی میں قرآن کو منسون کرنے کے لئے جناب بہاء اللہ اور جناب قرة العین وغیرہ چند اشخاص تھے۔اس تجویز یکے بعد دیگر تے بان شریعتیں تجویز کی ہیں جو خلل دی ثلاث شعب پر جنابہ، باپ نے قلعہ ماکو میں بیٹھے ہوئے قرآن مجید کے مقابلہ پر ایک لاظليل ولا يعنى من اللعب کا مصداق ہیں۔