بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 97
۱۹۱ 19- ہیں۔قرآنی علوم و معارف کے اس بحر ذخار کا تجربہ ہو چکا ہے۔قرآنی نے لگا نہیں کھا سکتی۔اور کسی پہلو سے اُسے قرآن مجید سے کوئی نسبت شریعت کی جامعیت اور پاکیزہ تاثیرات ساری قوموں میں اور صدیوں حاصل نہیں ہے۔نہ عربی زبان کی فصاحت و بلاغت میں، نہ علوم و تک مشاہدہ کی جا چکی ہیں اور آج بھی اسی کی برکات اور اسی کے انجیات سے ایک عالم زندہ ہو رہا ہے۔معزز حضرات ایک طرف یہ مقدس کتاب ہے جسے قرآن کتنے ین گوئیوں کے بیان میں، نہ اخلاقی تعلیمات کے ذکر میں یہ اصول جہانبانی د قوانین حکمرانی کے سلسلہ میں، نہ تمدنی و معاشرتی ہدایات تعلیمات کے ذکر میں، اور نہ اقتصادی قواعد و ضوابط کے بیان میں۔غرض شریعت کا ہیں جس کے متعلق اسلام کے بدترین دشمنوں کو بھی اعتراف ہے کہ دنیا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہے جس میں بہائیوں کی اقدس کو قرآن مجید میں ساری کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی یہ کتاب ہے۔سے کوئی مناسبت حاصل ہو۔ہر مسلمان گھرانہ میں اس کی تلاوت ہوتی ہے ہر نمازی ہر مسجد میں اسکی آیات آپ اگر ان سارے پہلوؤں کو نظر انداز بھی فرما دیں تب بھی بھائیوں پڑھتا ہے مسلمانوں کی ہر عدالت اور ہر مجلس میں قرآن مجید کا مطالعہ کیا کی اقدس تو اپنی اشاعت کے لحاظ سے بھی قابل ذکر نہیں ہے کہتے ہیں جاتا ہے۔ایک طرف تو یہ عالی شان اور جامع شریعت ہے اور دوسری کہ وہ قریباً اسی برس سے مدون ہے۔مگر ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ آج طرف ایران کے ایک شخص نے اپنا وقت گزارنے کے لئے بطور مشغلہ تک اسے اس کے ماننے والوں نے ایک دفعہ بھی زیور طباعت سے آراستہ نہیں کیا۔بھائی صاحبان ادھر اُدھر کی بیسیوں کتابیں اور رسالے شائع کرتے رہتے ہیں۔سفرنامے چھپواتے رہتے ہیں۔مگر آج تک انہوں نے طبع نہیں کیا تو انہیں کو۔اس کو آج تک صرف اس کے نہ ماننے والوں نے ہی ایک آدھ مرتبہ چھایا ہے۔تا کہ لوگوں کو خفیہ بہائی مذہب کی حقیقت معلوم ہو سکے۔ورنہ اس کتاب کو تریاق اکبر" کہنے والے نہائیوں کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ اسے طبع کر کے دنیا کے سامنے اپنی جبکہ وہ عثمانی حکومت کی مہیا کردہ سہولتوں میں کامل فارغ البالی اور بے فکری سے دن گزار تھے تھے اور انہیں اور کوئی کام نہ تھا الواح انا نے " کا خیال کیا اور اپنے منتشر خیالات پر مشتمل چند اوراق لکھ کر کہنا شروع کر دیا کہ یہ اقدس ہے اور یہ قرآن پاک کے مقابلہ پر اس کی ناسخ شریعیت ہے۔انعوذ بالله من هذه الخرافات ہم آج بادل ناخواستہ جناب بہاء اللہ کی لکھی ہوئی شریعت اندی" کا قرآن پاک سے سرسری موازنہ کرنے لگے ہیں۔وجدانی طور پر اس موازنہ شریعیت کے ماور پریشں کر سکیں۔میں جن دنوں (۹۳ نہ ۱۹۳۷ئ) کی کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔کیونکہ اقدس کی کوئی ایک بات بھی تو قرآن مجید لسطین میں تھا تو میں نے بڑی کوشش سے عراق سے اقدس کا ایک نسخہ