بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 96
(19 مقالہ ہے اور آخری ہے۔مزعومہ شریعت کا موازنہ ہے۔یہ مقالہ ہمارے سلسلہ مقالات کا پانچے انھیں عمانیہ کی سرزمین میں ربع صدی سے کم عرصہ کے اندر عظیم الشان اور بے نظیر انت اب کے پیدا ہو جانے کا علم نہیں۔یہ ایک تاریخی صداقت حضرات با قرآن مجید ایک تیرہ و تاریک دور میں نازل ہوا۔ایک تے ہے ایک مشہود و محسوس ماجرا ہے۔یہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے وشی اور درندہ صفت قوم کی اصلاح کے لئے اُترا۔ہمارے سید جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔بائیبل میں اسی انقلاب وحانی کی ان الفاظ مولی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کلام خداوندی تدریجا نازل میں خبر دی گئی تھی :- تم اگلی چیزوں کو یاد نہ کرو اور قدیم باتوں کو سوچتے نہ رہو۔دیکھو میں ایک نئی چیز کروں گا۔اب دو نمود ہوگی۔کیا تم اس پر ملاحظہ نہ کرو گے ؟ ہاں میں بیابان میں ایک راہ اور صحرا میں ندیاں بناؤں گا۔دشت کے بہائم ، گیدڑ اور شتر مرغ میری تعظیم کریں گے کہ میں بیابان میں پانی اورصحرا میں ندیاں موجود کروں گا۔کہ وہ میرے لوگوں کے ، میرے برگزیدوں کے پینے کے لئے ہوئیں۔میں نے ان لوگوں کو اپنے لئے بنایا۔وہ میری ستائش کریں گے۔ریسعیاہ ) یہ عظیم الشان اور بے نظیر تاریخی انقلاب کیا ہے؟ عالی مرحوم ہوا۔اس کی برکات اور اس کے انوار نے تاریک دلوں کو منور کرنا شروع کیا۔اور اس کی تاثیرات سے عرب کی سرزمین آما جگاؤ وحانیت بننے لگی۔یہاں اور وہاں اس مقدس کتاب کی روشنی پھیلنے لگی۔قرآن مجید کی روحانی شعاعوں، اور حضرت سید الاولین والآخرين خير البشر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی درد بھری دعاؤں اور پاک تاثیروں کا یہ اثر ہوا کہ عرب کے وحشی انسانیت کی تعلیمات سے آہ استہ ہوتے لگے۔وہ جو وحشی تھے انسان ہے۔با اخلاق انسان ہے۔باخدا انسان ہے۔بلکہ باقی دنیا کے لئے خدا نما انسان بنے۔وہ رب دن شراب کے نشے میں مخمور رہتے تھے ذکر خدا میں مشغول ہو گئے۔وہ جو پتھروں اور درختوں کے پجاری تھے خدائے واحد کے پرستار بن گئے۔یہ نے خوب فرمایا ہے ہے قرآن پاک کا ایک لاثانی معجزہ ہے جس کا ہر دوست و دشمن کو اختران ہے۔بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں قرآن کریم کے پیش کردہ عقائد سے اتفاق نہیں، ہمیں اس کی پیش کردہ الہیات داخلاق کا وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی عرب کی زمیں جس نے یکسر ہلا دی M-IA خدا میں قرآن مجید کی قوت قدسیہ ایک آزمودہ حقیقت ہے ادراک نہیں لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے۔کہ انہیں قرآن کریم کے ذریعہ سے تھی ایک کا نجیبہ کی روحانی شعاعیں دنیا کو منور کر چکی ہیں اور آج بھی کر رہی