بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 93 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 93

IAM هشتم : جناب عبد البہاء کی وفات ۲۰ نومبر سنہ کو ہوئی ہے وفات سے تین دن پہلے انہوں نے حیفا ، فلسطین کی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز ادا کی ہے۔حالانکہ بھائیوں کے ہاں جمعہ کی نماز موجود نہیں ہے بلکہ بہاء اللہ نے نماز با جماعت سے منع کیا ہے لیکن بایں ہمہ اُن کا آخری ایام میں نماز جمعہ کے لئے مسجد میں جانا ظاہر کرتا ہے کہ شاید انہوں نے بھی دل میں رجوع کیا ہو۔نماز جمعہ کی ادائیگی معمولی بات نہیں ہے۔جس کی دلیل یہ ہے کہ عصر جدید کے اُردو ترجمہ میں تحریف کر کے اسے چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔چنانچہ انگریزی، عربی اور اردو حوالے آپ کے سامنے ہیں:۔(1) انگریزی الفاظ یہ ہیں :- "On friday, November 25, 1921, he attend- ed the moonday paryer at the Mosque i Haifa۔" د عصر جدید اور بہاء اللہ انگریزی فلش (۲) عربی ترجمہ میں لکھا ہے:۔ففي يوم الجمعة ۲۵ نومبر لانه شهد صلوة الجمعة في مسجد حيفا و عربی مصر جديد ملك (۳) اردو ترجمہ میں لکھا ہے :- ۲۵ نومبر ۹ہ کو جمعہ کے دن دو پر کو آپ مسجد حیفا کو گئے۔(مقر جدید اُردو مشک) نماز جمعہ کی ادائیگی کا حکم قرآنی شریعت کا حکم ہے جناب عبد البہار کا مرنے سے پہلے اس حکم پر عمل پیرا ہونا صاحت بتلاتا ہے کہ بہائیوں کے سربراہوں کے دل بھی مانتے ہیں کہ قرآنی شریعیت دائمی اور زندہ شریعیت ہے نجات پانے کے لئے اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔پہچ ہے، رُبمَا يَوَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ بالآخر میں آخری اتمام محبت کے طور پر اہل بہاء کے سامنے قرآن مجید کے دائمی اور غیر مفشوخ شریعت ہونے کے لئے ایک اور معیار پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اہل بہار کو مسلم ہے ویہ يقول المليك الرحمان في الفرقان وهو الذكر المحفوظ والحجة الباقية بين ملأ الأكوان موا الْمَوْتَ إِن كُشتم صدِقِينَ فجعل تمتى الموت برهانا صادقا (مقاله سیاح مشهد ترجمہ : خدائے ملیک درحمان نے قرآن مجید میں جو نسل انسانی کے درمیان ہمیشہ الذكر المحفوظ اور الحجة الباقیہ ہے فرمایا اگر تم بہت ہو توموت کی تمناکر یہ ہیں قرآن کریم نے مقابلہ موت کی تمنا یعنی دعوت مباہلہ کو صفات