بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 92
IAI سلف پر خطا رفته بودند - حال باید انصافت داد که هزاران حکماء و فلاسفه در یا میون از اهم متحد نه با وجود تدریس و تدریس در مسائل فلکیه خطا نمایند و شخص آتی از قبائل جاهله بادیۃ العرب که اسم فن ریاضی نشنیده بود، با وجود آنکه در صحراء در وادی غیر ذی زرع نشو و نما نموده بحقیقت مسائل غامضه فلکیہ ہے برد و چنین مشاکل ریاضیه را حل فرماید میں پہنچ شہر نیست که این قضیه خارق العادة ويقوت وحی حاصل گشته برہانے از این شانی تر و کافی ترممکن نیست و این قابل انکار نه یه و خطابات حضرت عبد البهاء جلدا من ٨٦-٢٨٤ اس عبارت میں بتایا گیا ہے کہ قرآنی بیانات اور اصولی ہر حال درست ثابت ہوتے ہیں۔بعض امور میں دنیا اور دنیا کے عالموں نے ہزار سال تک قرآن کریم کے بیان فرمودہ اصولوں پر اعتراض کیئے مگر آخر وہی حق ثابت ہوا جسے قرآن مجید نے بیان کیا تھا۔پس جب ہزار سال کے بعد بھی بیانات قرآنیہ کی حقانیت ! اور صداقت پر واقعات پر کر رہے ہیں تو کیا اس سے بڑھ کر کسی اور دلیل کی ضرورت ہے کہ قرآن کریم منسوخ نہیں بلکہ خدا کی زندہ کتاب ہے؟ هفتم بہائی موسع مرزا عبد حسین لکھتے ہیں : در میان سائر مل چنین شهرت دادند که پدر یا داعیه الاستقلال اظهار نظر موده و تشریع شریعت نموده بلکہ یکے از اولیاء و اقطاب بوده و متابعت شرع اسلام نموده با برادر با عباس افندی فنے تازہ پیش گرفته و شرع جدید تاسیس نموده" (الکواکب الدریہ جلد ۲ مناس) ترجمه : فرزندانِ بہاء اللہ محمد علی وغیرہ نے سب انہیں مذاہب کے اندر مشہور کر دیا ہے کہ ہمارے باپ دیما داشتہ نے مستقل مدعی ہونے کا دعوئی نہیں کیا اور نہ ہی اس نے نئی شریعیت بنائی ہے۔بلکہ وہ تو اولیاء اور اقطاب میں سے تھا اور ہمیشہ اسلامی شریعت کی پیروی کرتا رہا ہے۔ہمارے بھائی عباس افندی نے نیا ڈھونگ رچا دیا ہے اور شریعیت جدیدہ کی بنیا د رکھ دی ہے۔ان حالات میں اور جناب بھاء اللہ کے اوپر والے حوالہ جات کی موجودگی میں ان کے بیٹوں کی یہ شہادت ضرور قابل توجہ ہے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ آخر کار جناب بہاء اللہ کے دل میں ندامت اور تو بہ پیدا ہوئی ہو۔اور انہوں نے قرآن مجید کی منسوخی کے دخوشی سے رجوع کر لیا ہو؟ تاہم یہ بہاء اللہ کے بیٹوں اور بہائیوں کا اندرونی معاملہ ہے & تحتسب را درون خانه چه کا به