بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 94
ino ۱۸۴ کا برہان قرار دیا ہے۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید محفوظ کتاب ہے اور ہمیشہ کے لئے ) جیب تک یہ دنیا اور یہ کون و مکان موجود ہے محبت باقیہ ہے۔اس قرآن کریم نے شوال میں شملہ کی بلند چوٹیوں سے اعلان فرمایا تھا کہ جب۔میں حضرت مسیح موعود کے بعد تمام دنیا کو چلینج دیتا ہوں اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے انتہا ہونے کا یقین ہے تو آئے اور کریم سے مقابلہ کر لے۔مجھے یکن اہل بہاء کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس معیار کے ذریعہ بھی اس عقیدہ چنجر بہ کے ذریعہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے نے صداقت کے پرکھنے کے لئے مباہلہ اور موت کی تمنا کا معیار مقرر فرمایا ہے۔کا فیصلہ کر لیں کہ آیا قرآن مجید منسوخ ہو گیا ہے یا وہ دائمی شریعت ہے ؟ جماعت احمدیہ اپنے عقیدہ پر پورے یقین اور کامل بصیرت کے ساتھ قائم ہے ہمارے بانی سلسلہ علیہ اسلام نے تحریر فرمایا ہے :- اب کوئی ایسی جی یا ایسا العام منجانب اللہ نہیں ہو گیا۔جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ پاکسی ایک حکم کا تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے " (ازالہ او لام فت") اب آسان راہ ہے کہ اگر اہل بہار بچے ہیں اور اگر فی الواقع قرآن کریم منسوخ ہو چکا ہے تو اس کو شیریں پھل نہیں لگ سکتے۔قرآن مجید کا دعوى تُؤتي أكلها كل حين باذن ربها وابراہیم دوست نہیں ہو سکتا۔اسلئے اہل بہاء کو چاہیے کہ وہ اپنے زخیم اور پیشوا کے ذریعہ اور کوئی مذہب اس کے مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا یہ گے چل کر فرمایا۔ان کو مقابلہ پر آنا چاہیئے جوکسی مذہب یا فرقہ کے قائم مقام ہوں۔اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے۔میں دعونی سے کہتا ہوں کہ ہماری ہی دعا قبول ہوگی۔افسوس ہے کہ مختلف مذاہب کے بڑے لوگ اس مقابلہ ہمیں آنے سے ڈرتے ہیں ورنہ حق نہایت روشن طور پر کھل جاتا اگر اس مقابلہ کے لئے مختلف مذاہب کے لوگ نکلیں تو انکو ایسی است نصیب ہوگی کہ پھر مقابلہ کی جرات ہی نہ رہے گی۔الفضل ۲۳ اکتوبر شد ناظرین کرام یا اس چیلینج پر قریب ربع صدی گزرچکی ہے مگر کسی مخالفت حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تبصرہ کی اس روحانی مقابلہ کی دعوت اسلام لیڈر کو اس کی جرات نہیں ہوئی کہ دعا کے مقابلہ کے میدان میں کو منظور کریں جسے میں ۱۹۴۰ء سے تعین طور پر جناب شوقی افندی کے کھے ہیں اب یہ خلیج حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ کی اجازت نام شائع کر چکا ہوں۔حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرم سے خاص طور پر بہائیوں کے موجودہ زعیم جناب شوقی آفت دی کے نام