بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 91
189 عمل سے نمودند و بدیش تشبت، بنیان حصین امر متضعضع نمی شد و مدائن معمورہ خراب نے گشت بلکه مدن و قرمی بطر از امن و امان مزین و فائزه ر مقالہ سیاح مع اردو ترجمہ مثل (ب) اگر اس آخری زمانہ میں اہل تو جب حضرت خاتم انہیں روح عالم نثار ہو اُن پر) کی وفات کے بعد اُن کی روشن شریعت پر عمل کرتے اور اُن کے دامن شریعت کو مضبوط پکڑے رہتے تو قلعہ دین کی مستحکم بنیاد ہر گز نہ ڈلگاتی اور ہے بسائے شہر کی ویران نہ ہوئے۔بلکہ شہر اور گاؤں امن و امان سے مرتن اور کامیاب رہتے یہ رباب الحياة ملا اس میں جناب بہاء اللہ نے قرآن مجید کو شریعیت غیر تسلیم کیا ہے۔صرف مسلمانوں کی بے عملی کا شکوہ کیا ہے۔جناب بہاء کی طرف سے یہ واضح اعتراف ہے کہ ان کے نزدیک بھی قرآنی شریعت دائمی شریعت ہے۔شدم - جناب عبد البہاء کہتے ہیں۔از جمله بران حضرت محمد قرآن است۔که شخص امتی و حی شده، دیک معجزه از معجزات قرآن اینست که قرآن حکمت بالغه است شریعتی در نهایت اتقان که روح آن عصر بود تاسیس میفرماید و از این گذشته مسائل تاریخیه و مسائل ریاضیه بیان مینماید که مخالف قواعد فلکیه آن زمان بود بعد ثابت شد که منطوق قرآن حق بود۔در آن زمان قوامی فلکیه بطلیموس مسلم آفاق بود و کتاب مجمعی اساس قواعد در بیاید بین جمیع فلاسفہ، ولے منطوقات قرآن مخالفت آن قواعد مسلم ریاضیه- لهذا تجمیع اعتراض کردند که این آیات قران دلیل پر عدم اطلاع است اما بعد از هزار سالی تحقیق و تدقیق ریاضییون اخیر واضح و شهود شد که صریح قرآن مطابق واقع و تواعد بطلیموس که نتیجه افکار هزاران ریاستی در فلاسفه بوزنان در زمان و ایران بود باطل مثلاً یک مسئله از مسائل ریا نیه قرآن اییست که تصریح حرکت ارض نمود عدوالے دور قوالی تعلیم ہیں دارین ساکن است دریا مینیون قدیم آفتاب را ترکت شیک قائل، دلے قرآن حرکت بخش را محمودیه بیان فرموده، وکیل اجسام کیه و ارضیه را متحرک دانسته اندا چولی یا قیون اخیر نهایت تحقیق و تدقیق در مسائل فلکیه نمودند ثابت و حتی شد که منطوق صریح قرآن صحیح است و تجمیع فی اسفه ریا ضنون