بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 90 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 90

166۔124 اس عبارت میں عقل انسانی کو قرآن مجید کے بے بایاں خزانوں تک پہنچنے سے قاصر قرار دیا گیا ہے جس طرح مکر ہی سیمرغ کا شکار نہیں کر سکتی اسی طرح عام انسانی عقل قرآن مجید پرچی نہیں چوکتی قرآن کریم کی اس بے کرانی اور ہے پاپانی کے باوجود اگر معمولی بھائی پر اس پر حرف گیر کی گریں تو وہ اپنے ہی حبیب کا اظہا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ قرار دیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت اور اسلام کی حقانیت کو ایسی آیات سے ثابت فرمایا ہے جو اعظم ترین بنیات ہیں " جب قرآن مجید اعظم بینات پر مشتمل ہے تو اس کے دائمی کتاب ہوتے ہیں کیا شبہ ہے۔جناب باب کے اس بیان سے ان کم علم لوگوں کی بھی تردید ہو جاتی ہے۔جو قرآن کریم میں غلطیاں نکالنے کے تدخی بنتے ہیں۔جیسا کہ بعض متنصب پادریوں کی کاسٹ میں چھا رھر جناب بہاء اللہ سکھتے ہیں:۔میں بعض بہائی بھی یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں۔کہ قرآن مجید میں زبان کی غلطیاں ہیں۔سومر- جناب بہاء اللہ کہتے ہیں: مثل اینکہ بعضے تمسک بعقل بسته و آنچه بعقل نیاید انکار نمانند و حالی آنکہ ہرگز فقولی ضعیفہ ہمیں مراتب مذکور را اور اک نکند مگر عقل کی زبانی ہے عقل جوئی کے تواند گشت بر قرآن محیط عنکبوتے کے تواند کر دسیمر نے شکار واہیں عوالم کل و د وادی حیرت دست دید و مشاهده گردد د مالک در بهر آن زیادتی طلب نماید و کسل نشود این است که سید اولین و آخرین در مراتب فکرت و اظهار حیرت و در روب زد تي فيك تحيراً، فرموده " ریفت دادی م۳۲-۲۳ - تصنیف بهاء الله کرنے والے ہوں گے۔اگر اعتراض و اعراض اہل فرقان نبوده بر اینه شریعت فرقان در این ظهور نسخ نشده و اقتدار نام تو جمہ : اگر اہل السلام باب اور بہار کے ماننے تے اعتراض نہ کرتے اور ان پر اعترانس نہ کرتے تو اس دور میں قرآنی شریعت ہر گز منسوخ نہ کی جاتی۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم حقیقتا کامل اور دائی شریعت ہے اس کو منسوخ قرار دینے کی کوئی وجہ نہ تھی۔صرف مسلمانوں کے اعتراضات سے چڑ کر باہیوں اور بھائیوں نے اسے منسوخ قرار دینے کا دعوی کر دیا ہے۔پنجم (الف) بجناب ہا۔اللہ نے آخری عمرمیں ایک خط میں کیا ہے۔اگیا اہل توحید در اعصایه اخیره بشریعت ١ گرام بعد از حضرت خاتم روح با راه خداه