بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 80
106 ود برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ارشاد خداوندی کے مطابق مومنوں کا فرض ہے کہ ان جاہل اور بے علم لوگوں کے ہوا ء نفس کی پیروی نہ کریں۔اور پاستور قرآن مجید سے بغیر کت ، رحمت اور ہدایت حاصل کرتے رہیں۔(3) وَيَوْمَيعَ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يُوَيْلَتَى لَيْتَنِي لم اتَّخِذ فلانا خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَن الذكر بعدَ إِذْ حَيَاءَ فِي وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِلْإِنْسَانِ حد ولاه وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذا القرآن مهجورًا، وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِ نَبِي عَدُوا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ، وَكَفَى بِرَبِّكَ ما ديا وَنَصِيرًا وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةٌ وَاحِدَةً كَذلِك لامت به توادَكَ وَرَثَلْنَهُ تَرْتِيلًا، وَلَا يا تونك بمثلِ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَاحْسَنَ تفسيراء (الفرقان: ۲۸-۳۲) تو جمہ :۔اس دن روزہ قیامت کو یاد کرو جب ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے چلائے گا۔کہ کاش میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وکم کے ساتھ ہی مر او استقیم پر گا مری رہتا۔افسوس کاش که یکی خلان درگیری این کو اپنا دوست نہ بناتا۔اس نے تو مج الذکر قرآن کریم سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔شیطان انسان کو بھنور میں چھوڑ دینے والا ہے۔اس وقت پیغمبر علیہ السلام عرض کرنیگے کہ اسے خدا ! میری اس قوم نے اس قرآن کو مجبور و متروک کر دیا تھا۔اسی طرح ہم نے مجرموں میں سے ہرنی کے دشمن کھڑے کئے ہیں اور تیرا رب ہادی اور نصیر ہونے کے لحاظ سے بہت کافی ہے۔کافر کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس پیغمبر پر اکٹھا کیوں نازل نہیں ہوا۔ہر روز اس میں سے نئے نئے معارف کیوں نکالے جاتے ہیں؟ فرمایا۔یہ اس لئے ہوا ہے۔تاہم تیرے دل کو مضبوطی مطلو کریں اور ہم نے اس کتاب کو بڑی ترتیب سے نازل کیا ہے چنانچھ جب کبھی بھی لوگ کوئی عہدہ تعلیم پشیں کریں گے پھر اس سے بہتر قرآن مجید سے پیش کر دیں گے۔ہر حق اور قرآن کی تفسیر ہوگی۔اس آیت میں ان لوگوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے جومحمدی راستہ سے برگشتہ ہو رہے ہیں۔اور دوسروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔پھر بتلایا ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با نگاه ایزدی میں شکایت کریں گے کہ کچھ لوگوں نے قرآن مجیر کہ مرد کی ہجور یا منسوخ قرار دیا تھا۔فرمایا کہ یہ لوگ در حقیقت انبیاء سابقین کے ان دشمنوں کی ڈگر پر چل رہے ہیں جو اُن لوگوں نے پہلے اختیار کی تھی۔اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی شریعیت دائمی ہے اسے مجبور قرار دینے والے ظالم اور اعداد حق ہیں۔