بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 79
۱۵۵ ۱۵۴ بنا کر دکھ او خواہ اس کے لئے اپنے سارے معبودان باطلہ سے بھی دعائیں کر لو اور ان سے مدد حاصل کر لو اگر تم سچے جو فرایا کہ اگر یہ منکرین اس چیلنج کو منظور نہ کرسکیں تویقین جانو کہ قرآن کریم کا نزول عظیم الہی کے مطابق ہے اور وہ خدا واحمد لا شریک ہے تم کو مسلمان ہونا چاہیئے " اس آیت میں بھی قرآن کریم کی بے نظیری کے چینی کو ہرا کر قرآن کریم کو علم الی مشتمل قرار دیا گیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق کامل شریعت ہے۔چونکہ قرآن مجید ہمیشہ کے لئے بے نظیر و بے مثل کتاب ہے اسی لئے اللہ والے نے آخر آیت میں فصل انتم مسلمون فرمایا یعنی اب سب کا فرض ہے ک سلام کو قبول کر کے سلمان بن جائیں۔پس قرآن مجید کا بے مثل اور کامل کتاب ہونا جو تمام ضروریات انسانی پر تعلم الہی کے مطابق مشتمل ہے ظاہر دیا ہر ہے۔ولقد اتهنا بني إسرائيل الكتب والحكم والنبوة ورزقتهم مِنَ الطَّبَاتِ وَفَضَّلَتُهُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ داتهم بنتِ مِنَ الْأَمْرِ فَمَا اخْتَلَفرا إِلَّا مِنْ بعْدِ مَا جَاء هُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ إِنَّ رَبَّكَ يقضى بينهم يَوْمَ الْقِيمَة فِيهَا كَانُوا فِيهِ خَتَلِفُونَ۔تم جنت على شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ نَا تَبِعَهَا وَلَا تليم أهْوَاء الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ، إِنَّهُمْ لَن يَفْتُوا عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَإِنَّ الظَّلِمِينَ بَعْضُهُم اولیاء بعض 7 وَ اللهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ هَذَا بَصَارُ النَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَذ مريوقِنُونَ۔ر الجائیه : ۱۲-۲۰۰) ترجمہ :۔یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور انہیں طیبات بخشے اور انہیں لوگوں پر فضیلت دی ہم نے انکو بنات شریعیت دیئے۔مگر علم آنے کے باوجود باہمی عزادہ کے باعث انہوں نے اختلاف کیا۔تیرا ر ہے ان کے تمام اختلافات کا قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔بعد ازاں ہم نے تجھ کو اسے عمیر العظیم الشان شریعیت پر قائم کیا ہے۔پس تو اس قرآنی شریعیت کی پڑی کرتارہ اور بے علم لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کر۔وہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں تجھے کچھ فائدہ نہ دے سکیں گے۔یہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اللہ تعالیٰ متقیوں کا دوست ومددگار ہے۔یہ تعلیمات سب لوگوں کے لئے ساران بصیرت ہیں، اور اہل یقین کے لئے ہدایت و رحمت ہیں " اس آیت کریمیہ ہیں اللہ تعالیٰ نے سلسلہ اسرائیلیہ کے بعد قرآنی شریعیت کے قائم کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔پھرنا کید فرمائی ہے کہ مومن کا فرق ہے۔کہ ہمیشہ اس کامل شریعیت پر عمل کرتا ہے ، شریعة من الامر میں تفکر تنظیم شان کے لئے ہے۔پھر فرمایا۔کہ کچھ ظالم لوگ دوسروں کو قرآنی شریعیت سے