بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 81
109 ۱۵۸ (ه) اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا المانك ) که آج یعنی قرآنی شریعیت کے نزول کے ساتھ میں نے تم تمام انسانوں کے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو تم پر مکمل کر دیا ہے۔اور میں نے تمہارے لئے دین السلام کو بطور دائمی دین انتخاب کر لیا ہے۔یہ آیت واضح طور پر سہلا رہی ہے کہ پہلی کتابوں کے نزول کے وقت دین اپنی ساری جزئیات کے لحاظ سے مکمل نہ ہوتا تھا۔خود تورات و انجیل کے بیانات اس پر شاہد ہیں۔اب قرآنی شریعیت کے نزول کے وقت دین کی تکمیل کی گئی اور اب ابدالآباد تک نسل انسانی کے لئے دین اسلام کو منتخب کیا گیا ہے۔اسی کی تائید میں دوسری جگہ فرمایا وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَدَتَ تُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ۔(آل عمران : ۸۵) کہ اب جو شخص بھی الاسلام کے علاوہ کسی مذہب کو بطور دین اختیار کرے گا۔تو اس کا یہ عمل مقبول نہ ہو گا۔اُسے آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہونا پڑے گا یہ اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران آیت 19 یہی اس کی وجہ یہ قرار دی ہے۔انَ الدِّينَ عِندَ الله الاسلام کہ اب خدا کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے۔ظاہر ہے کہ اس صورت میں دوسرے ادیان کو اختیار کرنے والا مقبول بارگاہ ایزدی نہیں ہو سکتا۔ان آیات سے بھی ظاہر ہے کہ اب دین اسلام ہی ہمیشہ کا دین ہے۔اسے اور اس کی شریعت کو دوام حاصل ہے۔اس شریعت قرآنی دائمی شریعت ہے۔(4) أَفَضَرَ اللَّهِ ابْتَنِي حَكَمَا وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ اليم الكتب مُفَصَّلًا وَالَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الكتب يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزِّلُ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُهْتَرِينَ، وَتَمَّتْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الانعام: ۱۱۳ (۱۱۵) ترجمہ : کیا اللہ کے سوائیں کسی اور کو حکم مان لوں حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف یہ کتاب تمام تفصیلات پر شمل بنا کر نازل کی ہے جن کو ہم نے اس کتاب کا فہم عطا کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے اٹل قانون کے ساتھ اُتری ہے تو شک کرنے والوں میں سے مت ہیں۔اس کتاب پر صدق نول کے لحاظ سے تیرے رب کی شریعت مکمل ہو گئی اس کے کلمات کو کوئی تبدیاں کرنے والا نہیں۔وہ سنتے اور جاننے والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو انسانی ضروریات کے لئے مفصل کتاب قرار دیا ہے۔اور اسے منزل بالحق کی کہ اٹل ٹھہرایا ہے۔