بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 7 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 7

إن الفيح لم يخالف الشيعة في اساس مستقدام وكان يطرى أئمة الهدى۔۔۔۔۔۔ويعتقد بخلافة على المتصلة وامامة ائمة الهدى من ذريته (الكواكب ) کے راستے میں انتقال کر گئے۔(الکواکب الدریہ م ) شیخ موصوف نے چیت کی تھی کہ میرے بعد میرے جانشین اور میری جماعت کے زعیم اسید کاظم رشتی ہوں گے۔استید کاظم 1 ہجری کو شت کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔الہ میں اپنے استناد کی وفات کہ شیخ نے شیعہ کے اصول معتقدات کی ذرہ مخالفت نہیں کی۔پر فرقہ مشیخیتہ کے رئیس مقرر ہوئے۔وہ عام طور پر شیخ الا سالی کے خیالات وہ اماموں کی بے حد تعریف کرتا تھا۔حضرت علی کو خلیفہ بلا فصل مانتا تھا اور آپ کی غسل میں امامت کا قائل تھا۔استید کا ظم الدشتی بھی شیخ الاحسانی کے شاگرد تھے۔اور شیخ ند کو اپنے کی ترویج کرتے رہے۔جناب ابو الفضل بھائی لکھتے ہیں :- قام بعده تلميذه الاجل السيد كاظم الرشي وسعى في نشر تعليمات الشيخ واقتفى اثره و شاگردوں کو امام المہدی کے ظہور کے قریب ہونے کی بشارت دیا کرتے تھے۔روج مشربه ومذهبه الى ان توقى الى رحمة لکھا ہے:۔وكان يبشر تابعية و مرید به وتلاميذه باقتراب ظهور المهدى ودنو قيام القائم المنتظر (الكواكب شه کہ احسائی اپنے اتباع ، مریدوں اور شاگردوں کو خوشخبری دیتا الله تعالى " مجموعہ رسائل عنك کہ احسائی کے بعد اس کا شاگر دانستید کا ظم اس کا قائم مقام ہوا۔اس نے شیخ کی تعالیم کو شائع کرنے میں جد و جہد کی۔اسکے مذہب کو رواج دیا اور اس کے نقش قدم پر چلا۔یہانتک کے دونت ہو گیا۔تھا کہ امام مہدی کے ظہور کا وقت بالکل قریب ہے اور قائم منتظر اسید کاظم نے فرقہ شیخیہ کے لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا ہے اہم گروہ وہ تھا جسے الطبقة الثالثة کہتے تھے۔بھائی تاریخ الکواکب الدریہ کے آنے کا زمانہ آپہنچا ہے۔جناب الشیخ احمد الاحسانی بحرین کے علاقہ میں بنی صفر قبیلہ میں عشان مجری مطابق عربی میں لکھا ہے۔لیے پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام زین الدین الاحسائی تھا بچائتی برس واما الطبقة الثالثة فهم التلاميذ الذين کی عمر میں اور ذو القعدہ سنہ ہجری مطابق شاہ کو مدینہ منورہ لا زمرة القيل والنهار و صحبوه بالعشق والابكار