بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 8
۱۳ ۱۲ و كانوا مستود ۶ اسراره وامناء جواهر افكاره۔والكواكب الدرية 12 ) که اسید کاظم نے اپنے شاگردوں میں تیسرا درجہ ان لوگوں کو دیا تھا جو دن رات صبح و شام اس کے ساتھ رہتے تھے۔وہ ان کو اپنے خاص را از بنایا کرتا تھا اور اپنے خیالات کو ان کے سامنے حقیقی شکل میں ظاہر کیا کرتا تھا۔سید علی محمد جنہوں نے بعد میں اپنے آپ کو باب قرار دیا سید کاظم کے شاگرد در ان وقت جمیع شاگر دہا ئے شیخ احمد و سید کاظم در نهایت اشتیاق و ذوق منتظر ظهور موعود بودند و کمال وجد و ولوله داشتند (رسالة التسع عشریہ عنا ) کہ ان دنوں شیخ احمد اور سید کاظم کے سب شاگرد بے حد شوق و ذوق سے موعود کے ظہور کے منتظر تھے اور نہایت ہے تابی اور جوش رکھتے تھے " بھائی موریع لکھتا ہے۔۔اور اسی ہونہار طبقہ ، الطبقة الثالثہ کے ایک فرد تھے۔السید کاظم کے شاگردوں میں ایک نہایت زیرک خاتون بھی تھیں جن کا نام جنا یہ ام سلمی اما تلاميذ السيد بعد وفاته قصاروا فریقین فریق استمر القراءة والدرس وفريق تھا گر با بی تاریخ میں انہیں قرۃ العین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے جناب اخذ يحبوب الفيافي والاقطار و برود الاقاليم ہیں۔عبدالبهاء لکھتے ہیں :- سيد مرحوم لقب قرة العین را با و دادند و فرمودند بحقیقت مسائل شیخ مرحوم قرۃ العین پے برده کا درسالة تذكرة الوفاء صفت) سید کا ظلم سترہ برس تک فرقہ کے پیشوا رہے اور ش انجری مطابق سایہ میں پچپن برس کی عمر میں کو بلا میں ان کا انتقال ہو گیا۔ظاہر ہے کہ والامصار والبرادي والقفار بحثا عن المنتظرة ر الكواكب فن کہ سید کاظم کی وفات پر اس کے شاگردوں کا ایک حصہ تو درس و تدریس میں مشغول رہا اور دوسرا حصہ انام موجود کی جستجو میں جنگلوں ، صحراؤں، ملکوں، شہروں اور ویرانوں میں مارا مارا پھر نے لگا۔یہ الشیخ الاحسانی کی پیدا کرده امید قریب طور امام مهدی علیات کام کی آن اش ہم بیان کر چکے ہیں کہ جناب سید علی محمد جناب السید کاظم کے معتمد علیہ کا یہ آخری موقع تھا۔السید کاظم کی وفات پران کے شاگردوں میں اس بارے میں بہت ہے ہے:۔شاگرد تھے۔سید علی محمد حکیم محرم ۱۳۳ هجری مطابق ۱۲۰ اکتو بر شاه کو شیراز میں پیدا ہوتے تھے۔ان کے والد کا نام سید محمد زرنا ہے۔الیہ کا