بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 6
یارخوین امام جو غائب ہو گئے ہیں تو اپنے فصل کی روسے اپنے ذکر ہیں۔بابیت اور بہائیت در اصل اشیخ الاحسائی کی تحریک کا ہی ایک غلط بچے اور طالب معتقدوں کو اپنا دیدار دکھانے کے واسطے دنیا نتیجہ ہے۔شیخ الاحسائی نے فرقوہ شیخیہ کی بنیاد رکھی۔بہائی عالم اول فصل میں اس خدمت کے لئے کسی بزرگ اور پرہیز گار آدمی کو اور کھتے لکھتے ہیں:۔ہیں۔اس آدمی کو وہ اپنی اصطلاح میں باپ کا لقب دیتے ہیں۔در ساله بیاد اللہ کی تعلیمات مطبوعہ آگرہ مث) مشہور شیعہ مصنفہ ابن بابویہ القمی تحریر کرتے ہیں :- وله الى هذا الوقت من يدعي من شيعته الثقات المستورين انه باب اليه وسبب يؤدى عنه الى شیعته امره و تهیه ی را کمال الدین منت کہ اس وقت تک امام غائب کے معتیر اتباع میں سے ایسے و خریدار پیدا ہوتے رہے جو کہتے ہیں کہ وہ اس کے لئے باب یعنی دروازہ ہیں اور اس کا امر و نہی اسکے مریدی کو پینچاتے ہیں۔ان السيد الاحسائي ولد في القرن الثاني عشر الهجري واشتهر بالعلم والفضل واوجد مذهباً خاصا في المعارف الروحانية وتفسير القرآن والاحاديث النبوية ولذلك اشتهر تلامذته في حياته وحزبه بعد وفاته بالفرقة الشيخية۔۔۔۔۔والفرقة الشيخية معروفة في بلاد العراق ومنها انتشر مذهبهم الى فارس و خراسان وسائر ممالک ایران : مجموعه رسال مطبوعہ مصرمت ترجمہ : الشیخ احمدان حمائی بارھویں صدی ہجری میں پیدا ہو شیعہ صاحبان کے اس عقید کے رو سے دار شعبان سنہ ہجری کو ان کے علم و فضل میں مشہور تھے۔انہوں نے روحانی معارف اور قرآن و حدی چوتھے باب جناب ابوالحسن السمری فوت ہوئے تھے۔اس کے بعد یہ خیال کمزور کی تفسیر میں خاص مذہب ایجاد کیا تھا۔اسلئے ان کی زندگی میں انکے ہونا پہلا گیا اور بارھویں صدی ہجری کے آخر میں ایران میں جہاں سیاسی انقلاب ہے شاگرد اور انکی وفات کے بعد ان کا گروہ فرقہ شیخیہ کے نام سے کار کر دورہ تھاواں پر امام غائب کے بارے میں وہ یہ خیال کمزور ہوتا نظر مشہور ہوا۔فرقہ شیخیہ عراق میں معروف ہے اور مال سے فارس آتا تھا اور عام طور پر لوگوں میں مایوسی پائی جاتی تھی جس پر چھے نو بی خیالی کے اور خراسان وغیرہ ایرانی علاقوں میں پھیلا ہے : لوگوں نے عوام کے اس عقیدہ کو سختور رکھنے کے لئے سعی کی۔ان لوگوں میں جناب الشیخ الاحسانی شیعہ عقائد کی ہی تائید کرتے تھے۔بہائی مورخ مرزا عبر مکین الشیخ احمدالا حائی اور جناب استید کانظم الدیشتی کے نام خاص طور پر قابل لکھتے ہیں :