بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 50
95 44 تھے ان دونوں امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے جناب بہلدا اللہ کے ادعا کے الفاظ کو سامنے رکھ کہ ہم صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔میرا یقین ہے کہ تحقیق کا یہ طریق درست طریقی ہے اور کوئی منصف مزاج بھائی بھی اس پر معترض نہیں ہو سکتا۔یاد رہے کہ جناب بہاد اللہ شیعہ گھرانہ میں پیدا ہوئے تھے۔وہ امام غائب کے منتظر تھے۔فرقہ شیخنیہ کی جس شاخ میں بہار اللہ کے و دعی (الباب، هذه الكتب صحفا الهامية وكلما فطرية ولدى التحقيق علم انه ليس يدعى نزول الوحي وهبوط الملك عليه د مقاله سیاح خوبی منگ کہ باپ اپنی کتابوں کو الہامی صحیفے کہتے تھے مگر وہ وحی کے نزول اور فرشتہ کے اُترنے کے قائل نہ تھے۔گویا وہ اپنے الفاظ کو سہی وحی ٹھہراتے پیشوا باب نے تعلیم و تربیت پائی تھی وہ سب اعتقاد رکھتے تھے۔کہ تھے۔جناب بہاء اللہ باب کے مرید تھے۔بہائیوں کا عقیدہ تو یہاں تک ہے کہ باپ نے جو البیان لکھی ہے وہ حقیقت بہاء اللہ نے وحی کی تھی۔ا المنتظر فوری طور پر ظاہر ہونے والا ہے۔شیعہ صاحبان کا یہ بھی ہے کہ امام معصوم ہوتا ہے۔اس سے کسی قسم کی اجتہادی یا تعبیری غلطی نہیں ہو سکتی۔باب کی زندگی میں بہاء اللہ کو باریے خاص مرید ہونے۔درجہ حاصل ہو چکا تھا۔ہم جانتے ہیں اور بھائیوں کو مسلم ہے کہ بابی تحریک میں بدشت کا نفرنس میں قرآنی تعلیم اور اسلامی شریعت کو منسوخ کر کے نئی شریعت قائم کرنے کا خیال در حقیقت جناب بہاء اللہ اور قرۃ العین کا ایجاد کردہ ہے ان حالات میں باب کے نئی شریعت 201 چنانچہ لکھا ہے: وقد قرر الباب كما ذكرنا ان البيان قد اوحى اليه من يظهره الله " القصر جديد عربي م کہ باب نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اس پر البیان کی وحی من يظهره الله کی طرف سے ہوئی ہے : اس جگہ قیمتی لطیفہ بھی ذکر کرنا مناسب ہے کہ بھائی لوگ نہ صرف اپنے کو پیش کرنے کی سکیم میں نا کام قتل ہو جانے سے جناب بہاء اللہ کو عقائد کو چھپاتے ہیں، اپنی کتابوں کو چھپوانے سے پہلوتہی کرتے ہیں۔بلکہ وہ بے انتہا صدمہ پہنچنا ضروری تھا۔اس جگہ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ ابی اور بہائی عقیدہ کے مطابق لفظی الہام دوجی اور فرشتہ کے نزدل آئے دن اپنی کتابوں میں کتر و بیونت بھی کرتے رہتے ہیں۔ہم خوب جانتے ہیں کہ ہمارے اس بیان سے بہائی صاحبان کو تکلیف ہوگی مگر افسوس ہے کہ ہم بھی نہایت رنج کے ساتھ یہ حقیقت ذکر کرتے ہیں ہم اس اعلان کی ذمہ داری کا کوئی سوال نہیں بلکہ اپنے امام کے ہر قوم دو تحریر کو وہ لوگ وہی خیال کرتے تھے اور کرتے ہیں۔چنانچہ باپ کے متعلق لکھا ہے :- کو بخوبی سمجھتے ہوئے اس جگہ اسی زیر نظر حوالہ کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔