بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 51
44 90 بھائیوں نے غیر جدید اور بہاء اللہ کتاب کو پہلے انگریزی میں شائع کیا ہے۔اس کا اُردو اور عربی میں ترجمہ محافل بنائیہ نے شائع کرایا ہے۔زیر نظر اقتباس انگریزی میں بایں الفاظ موجود ہے :- The Bab as we have seen, declared that his Revelation, the Bayan, was inspired by and emanated from Him whom God shall mak manifest" (Banallah and the new era P۔55 عربی ترجیہ میں بھی یہ مضمون موجود ہے لیکن اس کتا بہہ کا اردو ترجمہ جیسے محفل ملی بہائیاں ہندو بر یما نے شائع کیا ہے اس میں یہ حوالہ سالے کا سارا حرف کر دیا گیا ہے۔( ملاحظه موارد و عصر جدید منه اس ضمنی افسوسناک لطیفہ کے ذکر کے بعد ہم پھر اصل مضمون کی طرف خود کر کے کہتے ہیں کہ بہائیوں کے نزدیک باب پر البیان بہاء اللہ نے نازل کی تھی۔بابی ان کا دھوئی جھوٹا قرار دیتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ جناب بہادر اللہ اور بہائی تو یہ ادعا رکھتے ہیں اسلئے ان کے اس خیال سے انکا عقیدہ دربارہ وحی ظاہر ہے۔اسی سلسلہ میں بھی یادر ہے کہ بہاء اللہ اپنی تحریرات کو شروع سے دھی اور الہام قرار دیتے رہے ہیں۔انہوں نے بغداد کے قیام کے عرصہ میں باب کے ایک شاگرد کی حیثیت سے کتاب ایقان لکھی تھی۔جیس کے متعلق مسلم ہے کہ : در این کتاب (القان، بہاء اللہ مینوز از مقام خود سمجھتے نمیدارد، بلکه خود را نچوں تلمیذ از باب جلوہ سے دید" د تاریخ امر بہائی ماس لیکن اس کتا کے آخر پر بہاءاللہ خود سکھتے ہیں :۔المنزول من الباء والهار کہ یہ کتاب الباء والمار یعنی بہاء اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے گویا بہاء اللہ خود وحی نازل کرنے کے دعویدار تھے۔بہائی تاریخ میں لکھا ہے کہ مسکا میں جب جناب بہاء اللہ کو ہر طرح کی سہولت اور فراخی بھی توہ الواح اتارنے اور کتب مقدمہ لکھتے ہیں وقت صرف کیا کرتے تھے مصنف خصر جدید لکھتے ہیں : کے عربی زبان میں تقول فعل لازم ہے۔اس سے اسم مفعول منزول کے وزی پر نہیں آتا۔اس لئے عربی دان اصحاب سے معذرت کے ساتھ اسے درج کیا جار ہا ہے گر یادر ہے کہ اہل بہار کے ہاں اس قسم کی صد با غلطیاں موجود ہیں۔مزید بر آنی قابیل تعجب امر یہ ہے کہ ان لوگوں کو ان غلطیوں کے صحیح ہونے پر اصرار ہے۔منہ