بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 49
۹۵ ۹۴ رسالت ہے اسلئے ہم آج تک کہتے رہے کہ شیخ بہاء اللہ نبوت کے مدعی تھے۔مگر آج ان کی جماعت کے ارکن کو کب ہند نے ہمارے اس خیال کی بڑی سختی سے تردید کی۔را اخبار اہلحدیث جلد ۲۵ ۳۵ در جولائی شع فله اسلئے خدا کی قدرت کے نئے ظہور کو تسلیم کرتے ہیں جو نبوت سے آگے ایک نئی شان رکھتا ہے۔اور یہ دورہ نبوت کے تم ہونے کا کھلا اعلان ہے اسی لئے اہلِ بہار نے کبھی نہیں کہا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی اور موجود گل ادیان نبی یا رسول ہے بلکہ اس کا طور مستقبل خدائی طور ہے " د کو کب ہند جلد ۶۶ ۲۹ - ۲۴ جون ۱۹۲۰ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ بہائیوں کے نزدیک بہاء اللہ نے ثبوت کا دخوئی نہیں کیا۔بہائی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بائیں سنی خاتم النبیین مانتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی کسی قسم کا بہی نہیں آسکتا۔ان کے نزدیک اب انبیاء کا دور ہی ختم ہو چکا ہے۔نبیوں کی کسی قسم کی بہشت کے بہائی لوگ قائل نہیں۔اسی سلسلہ میں مولوی صاحب نے پھر لکھا :- ہمیں کیا ضرورت کہ ہم ان کی نبوت پر اصرار کریں اور بیمار فاضل نامه نگار مولوی محمد حسین صابری بریلوی کو گیا مطلب کرده قادیانیوں کے حملے سے ان کی مدافعت کریں کہ شیخ بہاء اللہ نے خدائی کا دعوی نہیں کیا تھا۔پس صابری صاحب ان دونوں (قادیانیوں اور بہائیوں کو چھوڑ دیں کہ یا سمی نمنٹ ہیں۔ہم کا ہے کو کسی کا مسلم عقیدہ تبدیل کریں یا تبدیل کرنے پر زور دیں بلکہ ہم وہی کہ اس کے جو خود بنائی اپنا عقیدہ ظاہر کریں گے" ر اخبار اہلحدیث جلد ۲۵ ۳۵۰ مور خود در جولائی سوائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ مولوی محفوظ الحق صاحب علمی بھائی مبلغ کے وہ الفاظ بھی پیش کر دیں جو انھوں نے کو کب مہند دہلی میں شائع خدائی ظہور ہے۔کرتے ہوئے جناب بہاء اللہ کے دھوٹی نبوت کا انکار کیا تھا اور ان کے ظهور کو مستقل خدائی ظور تسلیم کیا تھا وہ لکھتے ہیں :- اہل بناء دور نبوت کو ختم جانتے ہیں امت محمدیہ میں بھی نبوت جاری نہیں سمجھتے۔ہاں خدا کی قدرت کو ختم نہیں جانتے۔پس ماننا پڑے گا کہ جناب بہار بند کا دری اور وہ کچھ ہو وہ بوت ا کا ہر خوشی بہر حال نہیں۔ہاں مندرجہ بالا حوالہ تو کب ہند سے عیاں ہے۔کہ بھائیوں کے نزدیک وہ دھوئی نبوت سے بالا تر و خو ملی ہے اور دو مستقل آئیے اب ہم جناب بہاء اللہ کے دعوی کی مثبت تعیین کریں۔ہمارے نزدیک ہر قسم کی جنبہ داری سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے وہ ما حول مد نظر رکھیں میں میں جناب بہاء اللہ نے دعوی کیا ہے اور پھر انکے ان عقائد کو بھی مدنظر رکھیں جو دعوئی کے وقت ان کے دل ودماغ پر ھاوی