بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 26
۴۹ ۴۸ لو يحكم على الماء حكم الخمر و على السماء بہاء اللہ نے ایک عمل کو شریعت کے مطابق ظہرایا ہے مگر جناب عبد البہاء نے حكم الأرض وعلى النور حكم النار من لاديب اُسے نا درست ٹھہراتے ہوئے اس کے مخالف عمل کو اختیار کرنے کی تاکید کی فيه وليس لأحد ان يعترض عليه او يقول ہے۔عقائد کی بحث میں آپ اس کی مثالیں مشاہدہ کریں گے۔مگر محض مثال يقويم۔۔۔۔۔۔۔الكل أن يتبعوه فيما حكم کے طور پر اعمال کی ایک مثالی اس جگہ ذکر کی جاتی ہے تا کوئی یہ سمجھے کہ ہم نے به الله والذی انگره كفر بالله واياته ورسله یہ دعوئی نادرست طور پر ذکر کر دیا ہے۔وہ مثال یہ ہے کہ جناب بہاء اللہ نے اپنی شریعت اقدس میں حکم دیا ہے۔کتب علیکم الصلوة فرادى قد كتبه انه لونكم على الصواب محكم الخطاء و رفع حكم الجماعة كه ناز با جماعت کا حکم منسوخ کیا جاتا ہے اور تم میں على الكفر حكم الايمان من من عمده ؟ ريدة من تعاليم بماء الله محت؟ الگ الگ نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔بہائیوں کی نذہبی دروس کی کتاب گویا ایسا شخص اگر پانی پر شراب کا حکم لگائے تو نہیں روا ہے اور اگر دروس الديانة " نامی کے درس ملا میں لکھا ہے کہ :۔آسمان کو زمین قرار دیدے تب بھی درست ہے اور اگر نام کو نور تدار اور شریعت ما حکم جماعت نیست - ہر کسی باید بہ تنہائی نماز بخواند دیدے تب بھی اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ایسے اشخاص کے احکام کہ ہماری شریعت میں باجماعت نماز پڑھنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔کی سرتابی اللہ اور اس کے سارے رسولوں اور اس کی ساری کتابوں کے پر شخص کو چاہیئے کہ اکیلا نماز پڑھے۔انکار کے مترادف ہے۔وہ اگر نا درست کو درست قرار دے اور کفر کو لیکن اس کے بر خلاف جناب عبد البہاء فرماتے ہیں :۔اس قسم کے خیال کرنا بیہودگی ہے۔کیونکہ جہاں بہت سے ایمان ٹھہرائے تو ایک بھائی اس کے ماننے پر مجبور ہے۔یاد رہے کہ ہم نے یہ بیان غیر متعلق طور پر ذکر نہیں کیا کیوں کی جیسا کہ لوگ جمع ہوتے ہیں۔وہاں اثر زیادہ ہوتا ہے۔علیحدہ علیحد سپاہی آپ ابھی نہیں گئے اور خود بہائی کتابوں میں مشاہدہ فرمائیں گے بسا اوقات اکیلے لیتے ہوتے ایک متحدہ فوج کی سی قوت نہیں رکھتے ہیں۔ایسا ہوا ہے کہ جناب بہاء اللہ نے ایک عقیدہ کا اعلان کیا ہے اور اسے ی دخانی جنگ میں اگر سب سپاہی اکٹھے ہو کر لڑیں تو انکے متحدہ درست ٹھہرایا ہے لیکن جناب عبد النبہا ء نے اسے غلط سمجھتے ہوئے اس یا جانی خیالات ایک دوسرے کی مد کرتے ہیں اور ان کی دعائیں کے مخالف دوسرا عقیدہ اختیار کر لیا اور اس کا اعلان کر دیا ہے، یا جناب قبول ہوتی ہیں۔(بہاء اللہ عصر جدید مننا