بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 27 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 27

۵۱ ۵۰ اس مثال سے ظاہر ہے کہ تندیسی اعمال میں جناب بہاء اللہ اور عبد البہاء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ہمارے اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہے کہ بھائیوں عقیدہ ہم اُن کے کسی لیڈر کی طرف منسوب کریں گے اس کے لئے ان کی تحریر کا حوالہ دینے کے ہم ذمہ دار ہوں گے۔کے عقائد معلوم کرنے کے لئے خاصی جد و جہد آنے کی ضرورت ہے۔اور آج کے لیکچر کا عنوان صرف بہائیوں کے عقائد نہیں بلکہ اس سلسلہ میں ان عقائد کے متعلق تخریب احمدیت کے موقف کا ذکر کرنا بھی مضمون کا حصہ ہے۔کوئی شخص آسانی سے ان کے حقیقی عقائد کو معلوم نہیں کر سکتا۔ان مشکلات کے باوجود ہم آپ کے سامنے بہائیوں کے خصوصی حقائد اس لئے ہم ذیل میں بہائیوں کے عقائد کے ساتھ ساتھ احمدی جماعت توقف کو خود ان کی اپنی تحریروں سے پیش کر رہے ہیں۔عقائد کا معاملہ انسان کو بھی ذکر کرتے جائیں گے۔کے دل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔کوئی شخص دوسرے کے دل کے خیالات سے آگاہ نہیں۔دلوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس لئے جس عقیدہ کو انسان اپنے قول یا اپنی تحریر سے ظاہر کرے وہی اس کا عقیدہ سمجھا جاتا ضروری ہے۔اور کسی شخص کا یہ حق نہیں کہ دوسرے کی طرف ایسی بات منسوب بانی بہائیت جناب بہاء اللہ کے دھونے کی را، بہائی توحید از قیمت کل شام کے مقالہ کا مضمون ہے۔اور اس پر ہم اسی وقت پوری بحث کریں لئے انشاء اللہ۔اس جگہ صرف استاد کر کرے یا ایسی بات کو اس کا عقیدہ قرار دے جسے وہ شخص نہیں مانتا۔اہل کیا جاتا ہے کہ بہائی لوگ جناب بہاء اللہ کے اندر اسی طرح سے لاہوتی اور نا سوتی طبیعتوں کے معتقد ہیں جس طرح عیسائی لوگ حضرت مسیح مذاہب اپنے مخالفین کی طرف ایسی باتیں بھی منسوب کر دیتے ہیں جو اُن کی علیہ السلام کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں۔عیسائیوں کا اس پانے میں جو عقیدہ مسلمہ نہیں ہوتیں۔ہم نے اس امر کی پوری احتیاط کی ہے کہ نہار ہے مقال میں اہر رات کوئی ایسا عقیدہ یا ایسا مسئلہ منسوب نہ ہو جیسے وہ نہ یہ حق ہے کہ اگر وہ ہمارے ایسا عقیدہ دیکھیں تو اس کے متعلق صراحت کردیں کہ یہ ہمارے مسلمات میں سے نہیں ہے۔ہاں ہم اس جگہ یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔کہ نیوں کے اپنے لیڈروں کے بیانات اور عقائد ہیں جو اختلاف اور تضاد ا تاب کو اس کے متعلق کوئی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں البتہ جو باتے ہوں۔بہائی صاحبان است ہے اس کے متعلق ابوالفضل صاحب بھائی لکھتے ہیں :- علماء سورہ سے وسائر بلاد شرق حضرت عیسی را دارا ئے د و طبیعت و مشقت دانستند و آن عبارت است از شیست لاہوت و مشیت ناسوت یعنی الوہیت و بشریت یا الفرائد مصنفہ ابو الفضل بہائی 1) ہی کے بین بہاء اللہ کے متعلق بہائیوں کی مار کتاب درس الدیانہ میں بہاء اللہ کی نا ہوتی اور نا سوئی طبیعت کا ذکر