بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 25
عبد البہاء جزء سرعت ۱۲) کہ لوگوں کے پردوں، ان کی نیند اور ان کی عقلوں کے ضعیف ہونے کی وجہ سے تمہارا فرض ہے کہ تقیہ کو اختیار کر وہ جس کے صاف نے سنتے ہیں کہ بہائی میکنین را دور جا گرا تقیہ اختیار کریں گے۔اس تقیہ اور اخفاء مذہب کی مشکل کے ساتھ ساتھ ایک دوسری مشکل یہ بھی ہے کہ جناب عبد البہاء نے بہائیت کے میدان کو بہت وسیع کر دیا ہے۔کیونکہ وہ فرماتے ہیں :- اذا كنت في جمعية الهيئة فلا تفارق اخوانك فانك يمكنك الاتكون بهائيا مسيحيا وبهائيا ماسونيا وبهائيا يهوديا "In one of his Eonden talks he said that a man may be a Bahai even if he has never the name of Bahaullah” heard (Bahaullah and the New Era P۔98) افسوس ہے کہ بہائیوں نے عصر جدید کے اُردو ترجمہ سے یہ حوالہ حذف کر دیا ہے۔قصر تجدید عربی میں اس کا ترجمہ یوی لکھا گیا ہے :- يصح ان يكون الانسان بهائيًا ولولم ليمـ بسم بهاء الله " (عصر جدید غربی منک پس ان حالات میں ایک جویائے حق کے لئے بہائیوں کے عقائد کا صحیح طور پر جانتا کچھ آسان بات نہیں ہے۔بہائیوں کے عقائد پر تفصیلی نظر ڈالنے سے پہلے یہ ذکر کرنا بھی ضروری وبهائيا مسلمات (مفاوضات عبد البهاء فت) کہ تو جس جمعیت یا ایلمین میں ہو تجھے بہائی ہونے کی وجہ سے اس سے علیحدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تو عیسائی ہوتے ہوئے ہے کہ بھائی عقیدہ کی رو سے جناب باب، جناب بہاء اللہ، جناب عبد البهاء بھی بہائی رہ سکتا ہے۔مو سوتی ہوتے ہوتے بھی بہائی رہ سکتا ہے۔بلکہ جناب شوقی افندی تک ایسے مقام پر ہیں کہ ان کے بیان اور قول کو اور تو یہودی بھائی اور مسلم بھائی بھی بن سکتا ہے۔یہ العام اور وحی کا درجہ دیا جاتا ہے۔جناب بہاء اللہ اور عبد البہاء کو تب اس سے بھی بڑھ کر جناب بہاء اللہ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ انہتائی ہونے حضرت گہرنی کے مقام پر مانا جائے گا تو ان کے ہر قول کو بہائی عقائد کیلئے کے لئے بہار اللہ کا نام تک سننا ضروری نہیں اپنی کو خر قدید اور بہاء اللہ اساس اور بنیاد بھنا ضروری ہوگا۔بہائیوں کے نزدیک انہیں عصمت کبری نچہ عمر حاصل ہے اور عصمت کیرٹی والے شخص کے متعلق جناب بہاء اللہ تحریر کرتے ہیں :۔میں لکھا ہے :- اور