اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 68
68 پہلے جولوگ ہندوستان میں موجود تھے وہ ہندو کہلاتے تھے۔ان میں موٹے موٹے فرقے یہ ہیں:۔سب سے زیادہ اور سب سے قدیم سناتن دھرم ہے۔یہ بہت پرانا مذہب ہے اور وید پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کہ وید کے بعد کوئی نئی شریعت اور کتاب نہیں آئی ہے بلکہ اوتاروں کے ذریعہ وید کا علم آتا ہے۔کرشن اور رام چندر کو اوتار مانتے ہیں۔اس مذہب کا زیادہ مدار بت پرستی پر ہے اور تین بڑے دیوتا بر ہما۔وشنو اور شو کو مانتے ہیں۔اور بھی چھوٹے چھوٹے بہت سے دیوتاؤں کو مانتے ہیں مگر سب سے بڑے یہی ہیں۔آگے پھر ان میں مذہبی فرقے ہیں۔بعض برہما کو بڑا بتاتے ہیں اور بعض وشنو کو اور بعض شو کو۔برہما پیدائش کا دیوتا ہے، جو آرام اور دولت کا اور وشنو بلاک کا یعنی موت کا۔پھر ان فرقوں میں ایک اہم فرقہ ہے جو کرشن جی کو مانے والا ہے۔وہ وید کو خاص طرز پر مانتے ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ کرشن جی نے کیتا میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ وید کو پڑھ کر نہیں آتا اس لئے وہ گیتا ہی کو پڑھتے ہیں۔وہ گیتا کے علم کو مکمل سمجھتے ہیں اور دیدوں پر اس کو فضیلت دیتے ہیں۔اس لئے وہ ایک نیا ہی فرقہ ہے۔پھر ایک اور فرقہ ان میں ویدانتی یاد یدانت کہلاتا ہے۔اس فرقہ والے بجھتے ہیں کہ سب کچھ خداہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو ایک خدا کا خیال ہے اور اُن کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ سب کچھ ہمیشہ سے ہے اور اگر یہ ہمیشہ سے نہیں تو پھر کہاں سے آگیا۔پس یہ خدا کا خیال ہے اور در حقیقت یہ کچھ نہیں۔پھر ایک فرقہ وام مارگ ہے ان کا عقیدہ عملی طور پر یہ ہے کہ ساری روحانی ترقی عیاشی پر موقوف ہے۔یہ لوگ کثرت سے پھیلے ہوئے ہیں۔پھر ایک مذیب آریہ مذہب ہے۔یہ اوتاروں کو نہیں مانتے اور یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے روح اور مادہ کو پیدا نہیں کیا بلکہ یہ دونوں چیزیں بھی ہمیشہ سے مستقل طور پر ہیں۔اپنے وجود کے لئے خدا تعالیٰ نے ان چیزوں کو لے کر جوڑ جاڑ دیا جس طرح کمہار مٹی لے کر برتن بنادیتا ہے۔اور یہ مذہب نجات کے متعلق کہتا ہے کہ جو کچھ ملتا ہے وہ صرف کرموں کا پھل ہے اور اس کو تاریخ یا آواگوں کا عقید ہ بتاتے ہیں کہ انسان بار ہارا اپنے عملوں کی جزا وسزا بھگتنے کے لئے اس دُنیا میں بار بار آ تار بہتا ہے اور کبھی اس کو ہمیشہ کی نجات نہیں مل سکتی۔بدھ مذہب (۵) پانچواں مذہب بدھ مذہب ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ تعداد اسی مذہب کی ہے۔یہ مذہب پیدا تو ہندوستان میں ہو انگر اب اس کے مانے والوں کی بڑی تعداد ہندوستان سے باہر ہے