اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 69

69 چین اور جاپان وغیرہ میں اسی مذہب کے ماننے والے کثرت سے ہیں۔اس مذہب کا بانی بدھ ایک راجہ کا بیٹا تھا۔انہوں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خدا کی یاد کی۔وہ کہتے ہیں کہ خواہشات کے مٹا دینے کا نام نجات ہے اور خواہشات کا مٹانا فنا ہو جانا ہے۔یہی اس مذہب کا بڑا امتیاز ہے۔وہ ہر قسم کی خواہشات ہی مٹا دینا چاہتے ہیں اس لئے وہ روزہ نہیں رکھتے اور دوسری قسم کی عبادات کو بھی مٹادیا کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی خواہش ہے اور خواہش کے مٹادینے کا نام فنا ہونا ہے اور یہی نجات ہے۔جینی مذہب (1) چھٹا ند ہب جین مت ہے۔اس مذہب کے ماننے والوں کی تعداد ہندوستان میں دو اڑھائی کروڑ ہوگی۔وہ کہتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں۔چند پاک رُوحیں مل کر دنیا پر حکومت کرتی ہیں اور باقی تمام ارواح ترقی کرتی ہیں اور اس ترقی میں کبھی کوئی وقت آجاتا ہے کہ وہ نجات پا جاتی ہیں۔انسان کی روح کو مادہ لگ گیا ہے جب وہ مادہ جھڑ جاتا ہے تو وہ نجات پا جاتی ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی کانٹا کپڑے کو لگ جائے اور اس کانٹے کو الگ کر دیا جائے اُن کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ جب تک وہ مادہ جھڑتا نہیں روحیں بار بار آتی رہتی ہیں اور بار بار آنے کا نام تناسخ ہے۔یہ عقیدہ سب میں ہے۔زرتشتی مذہب (۷) ساتواں زرتشتی مذہب کا علم ہے۔یہ مذہب پانچ ہزار برس پہلے ایران میں پیدا ہوا تھا۔بعض کا خیال ہے یہ ہندو مذ ہب سے بھی پہلے کا ہے۔زرتشت ایک شخص ہے جس پر یہ مذہب نازل ہوا۔اس مذہب کے عقائد اسلام سے ملتے ہیں۔اعمال میں وضور تیم ، نماز بھی پائی جاتی ہے اور دوزخ اور بہشت کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ان لوگوں کا سب سے بڑا اختلاف دوسرے مذاہب سے یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا جلوہ آگ اور سورج کو یقین کرتے ہیں اس لئے اس کی عام طور پر پوجا کرتے ہیں۔اس کے بعد پانی اور ہوا عناصر کے بھی پرستار ہیں۔عملی طور پر دوسرے مذاہب کے بعد اعمال سے بہت بڑا اختلاف ہے۔مثلاً ہندو مردوں کو جلاتے ہیں اور مسلمان، عیسائی، یہودی سب دفن کرتے ہیں۔یہ لوگ جن کو زرتشی یا پارسی کہتے ہیں نہ جلاتے ہیں نہ دفن کرتے ہیں بلکہ گروں کو کھلاتے ہیں۔اس کام کے لئے انہوں نے ایک جگہ بنائی ہوئی ہوتی ہے جس کو وضمہ کہتے ہیں۔انگریزی میں اس کا جو نام ہے اُس کا ترجمہ ہے۔"مینا ر خا موشی۔جو لوگ اس میں مردوں کو رکھتے ہیں اور یہ کام کرتے ہیں اُن کو باہر نکلنے نہیں دیتے۔