اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 67
67 بھی رائے ہوتی ہے۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح کی صلیب کے سامنے یا کسی بزرگ یا مریم کے بہت کے سامنے جھکنا جائز نہیں اور انجیل کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرنا جائز ہے برخلاف رومن کیتھولک والوں کے جو کہتے ہیں کہ انجیل اصلی زبان نہیں پڑھنی چاہیئے۔چوتھا فرقہ یونی ٹیرین ہے جو ایک خدا کو مانتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے بلکہ اُن کو آخری اور بڑا نبی یقین کرتے ہیں۔عیسائیت کے یہ بڑے بڑے فرقے بیان کئے ہیں ان میں چھوٹے چھوٹے اور بھی بہت سے فرقے ہیں لیکن بڑے فرقے یہی ہیں۔یہودی مذہب (۳) تیسرا مذہب یہودیت ہے۔یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہیں اور تو رات کو مانتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جھوٹا یقین کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایک آنے والے مسیح کی پیشگوئی ضرور ہے مگر مسیح ابن مریم کا دعوئی غلط ہے۔وہ کہتے ہیں مسیح سے پہلے ایلیا نبی آسمان سے آئے گا۔ملاتی نبی تک سب کو مانتے ہیں البتہ حضرت سلیمان کو بھی بڑا کہتے ہیں اور حضرت داؤد کو نبی مانتے ہیں۔اصل مذہب کی بنیاد توریت پر رکھتے ہیں۔یہودی مذہب کے دو بڑے فرقے ہیں۔ایک صدوقی دوسرے فریسی۔صدوقتی سیاسی فرقہ ہے اور آزاد خیال ہے۔ان کا یہی خیال تھا کہ بائیبل ہر شخص سمجھ سکتا ہے اس لئے وہ حالات زمانہ کے ماتحت بائیبل کے معنی کر لیتا تھا اور یہ فرقہ چونکہ سیاسی تھا بادشاہوں کی مدد پر تھا۔بادشاہوں کو بھی اپنی حکومت چلانے کے لئے اُن کی ضرورت تھی اس لئے وہ بھی ان کی مدد کرتے اور آزادی دے دیتے تھے تا کہ حسب مطلب معنے کر لیں۔در حقیقت یہ ایک سیاسی فرقہ تھا۔اس فرقہ کو کسی حد تک اہل حدیث کی مانند کہہ سکتے ہیں۔دوسرا فرقه فریسی حنفیوں کی مانند ہے۔یہ کہتے ہیں کہ بزرگوں کے اقوال کی بھی تقلید ضروری ہے اور دوسرے ملکوں کے فتح کرنے کے خلاف تھے بلکہ اپنے ملک کو محدود رکھنا چاہتے تھے۔چونکہ صدوقی فرقہ ایک سیاسی فرقہ ہی تھا اس لئے یہودیت کی تباہی کے ساتھ وہ مٹ گیا۔ہندو مذہب (۴) چوتھا ہندو مذہب ہے۔دراصل یہ کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے آنے سے