اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 54
54 میں پیدا کرو، اس لئے اس کام کو بجالانے کے لئے تجاویز سوچو اور اُن پر مکمل درآمد کرو۔۔اس امر کی ضرورت ہے کہ جب مل کر کام کیا جائے تو ایک دوسرے کی غلطیوں سے چشم پوشی کی جائے اور میر اور ہمت سے اصلاح کی کوشش کی جائے نہ نار انتگی اور تنگی سے تفرقہ بڑھایا جائے۔۱۲۔چونکہ ہر ایک کام جب شروع کیا جائے تو لوگ اُس پر بنتے اور ٹھٹھا کرتے ہیں اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کی بنسی اور ٹھٹھے کی پروانہ کی جائے اور بہنوں کو الگ الگ مہنوں یا طعنوں یا مجالس کے ٹھٹھوں کو بہادری و ہمت سے برداشت کا سبق اور اُس کی طاقت پیدا کرنے کا مادہ پہلے ہی سے حاصل کیا جائے تا کہ اس نمونہ کو دیکھ کر دوسری بہنوں کو بھی اس کام کی طرف توجہ پیدا ہو۔۱۳۔اس امر کی ضرورت ہے کہ اس خیال کو مضبوط کرنے کے لئے اور ہمیشہ کے لئے جاری رکھنے کے لئے اپنی ہم خیال بنائی جائیں اور یہ کام اس صورت میں چل سکتا ہے کہ ہر ایک بہن جو اس مجلس میں شامل ہوا اپنا فرض سمجھے کہ دوسری بہنوں کو بھی اپنا ہم خیال بنائے گی۔۱۴۔اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کام کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے صرف وہی بہنیں انجمن کی کارکن بنائی جائیں جو ان خیالات سے پوری متفق ہوں اور کسی وقت خدانخواستہ کوئی متفق نہ رہے تو وہ بطیب خاطر انجمن سے علیحدہ ہو جائے یا بصورت دیگر علیحدہ کی جائے۔۱۵۔چونکہ جماعت کسی خاص گروہ کا نام نہیں چھوٹے بڑے ، غریب امیر سب کا نام جماعت ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس انجمن میں غریب امیر کی کوئی تفریق نہ ہو بلکہ غریب اور امیر دونوں میں محبت اور مساوات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک دوسرے کی حقارت اور اپنے آپ کو بڑا گھنٹے کا مادو دلوں سے زور کیا جائے کہ باوجود مدارج کے فرق کے اصل میں سب مرد بھائی بھائی اور سب عورتیں بہنیں بہنیں ہیں۔۱۹۔اس امر کی ضرورت ہے کہ عملی طور پر خدمت اسلام کے لئے اور اپنی غریب بہنوں اور بھائیوں کی مدد کے لئے بعض طریق تجویز کئے جائیں اور ان کے مطابق عمل کیا جائے۔۱۷۔اس امر کی نہرورت ہے کہ چونکہ مدد اور سب برکت اور سب کا میابیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔اس لئے دُعا کی جائے اور کروائی جائے۔ہمیں وہ مقاصد الہام ہوں جو ہماری پیدائش میں اُس نے مد نظر رکھے ہیں اور ان مقاصد کے