اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 406

406 کوئی شکایت کرتا تو میری ماں اُس سے لڑتی تھی کہ میرا بچہ تو ایسا نہیں یہ لوگ دشمنی سے ایسا کہتے ہیں۔پتہ نہیں کیوں ان کو میرے بچے سے دشمنی ہوگئی ہے۔میرا بچہ تو نالائق نہیں۔میں مدرسہ سے پنسل ، کاغذ قلم ، دوات وغیرہ چڑا کر لاتا تو میری ماں مجھے کہتی یہاں نہ رکھو کوئی دیکھ لے گا وہاں رکھو۔اگر کوئی شخص میری چوری کے متعلق شکایت کرتا تو میری ماں اسے گالیاں دیتی کہ ناحق میرے بچے کو بد نام کر رکھا ہے۔ابن باتوں سے میں چور بنا اور پھر چور سے ڈا کو بنا، پھر ڈا کہ میں مجھ سے یہ قتل ہو ا جس کی وجہ سے مجھے پھانسی پر لٹکایا جا رہا ہے۔اس قتل کی ساری ذمہ داری میری ماں پر ہے۔اس لئے اس کا کالہ کا ٹا جانے کی بجائے در حقیقت پھانسی کی سزا اسے ملنی چاہئے تھی نہ کہ مجھے۔اسی طرح بعض لڑکے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتے ہیں اور ماں باپ رو سکتے ہیں کہ زندگی وقف نہ کرو بلکہ کسی دوسری جگہ ملازمت کرلو چندہ سے دین کی خدمت کرتے رہنا۔حالانکہ جہاں آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں چندہ سے کام نہیں بنتا۔میرے نزدیک اس کی ایک حد تک ذمہ داری لجنہ اماءاللہ پر بھی ہے۔اگر لجنہ اماءاللہ دین کی ضرورتوں اور وقف کی اہمیت کو اچھی طرح عورتوں کے ذہن نشین کرا دے تو سال کے اندر اندر جس طرح کہتے ہیں کہ زمین نے اپنا کلیجہ نکال کر باہر رکھ دیا اسی طرح عورتیں بھی اپنا کلیجہ نکال کر باہر رکھ دیں۔عورتوں کا کلیجہ اولاد ہوتی ہے۔اگر مائیں اپنے لڑکوں کو زندگی وقف کرنے اور دوسرے کاموں میں حصہ لینے کی تحریک کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت زیادہ نوجوان اپنے آپ کو وقف کرنے لگ جائیں۔اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ آتا ہے کہ اسلامی لشکر کو ایک جگہ شکست ہوئی۔حضرت عمر نے تمام آدمی جو مہیا کئے جاسکتے تھے۔اس لشکر کی مدد کے لئے بھیج دئے۔مگر لشکر پھر بھی کم تھا۔ایرانی لشکر کی تعداد میں ہزارتھی۔اور جس مقام پر یہ جنگ ہو رہی تھی اس مقام کے درمیان اور مدینہ کے درمیان کوئی روک نہ تھی۔اسلامی جرنیل نے اس وقت ایک تقریر کی کہ تم آج اسلام کے احیاء اور بقا کے ذمہ دار ہو۔اگر تم آج شکست کھا گئے تو تمھارے اور مدینہ کے درمیان کوئی فوج نہیں جو اس لشکر کو روک سکے۔اگر دشمن یہاں سے نکل گیا تو سیدھا مدینہ پر جا کر حملہ کرے گا اس وقت خنساء نامی ایک مشہور شاعرہ عورت نے اپنے تین لڑکوں کو بلایا اور کہا تمھارا باپ بد کار تھا۔میں اپنے بھائی سے قرض لا لا کر اُسے دیتی رہی آخر وہ مر گیا اور تم چھوٹے چھوٹے رہ گئے میں نے محنت مزدوری کر کے تمھیں پالا اور اپنی ساری زندگی پاکیزگی اور پاکدامنی سے گزاری اور تم ان تمام